خروج کے مسئلے میں امام ابو حنیفہؒ کا مسلک

’’مسئلہ خلافت میں امام ابوحنیفہؒ کے مسلک‘‘({ FR 2251 })کی جو کچھ تشریح آپ نے ترجمان القرآن میں پیش کی ہے اس ضمن میں بعض واقعات جو بعض کتابوں کے حوالہ سے نقل کئے گئے ہیں افسوس ہے کہ ان کے ساتھ اتفاق کرنا مشکل ہے۔ بعض واقعات جس انداز سے پیش کئے گئے ہیں اس سے تو امام ابوحنیفہؒ کے مسلک کے بارے میں قارئین ترجمان القرآن بہت بڑی غلط فہمی میں پڑ سکتے ہیں ۔ بلکہ امام کے مسلک میں انھیں کھلا ہوا تضاد معلوم ہوسکتا ہے اگر انھوں نے مسلک امام کے متعلق کچھ فقہی معلومات حاصل کی ہوں ۔ سردست میں ایک واقعہ کی نشان دہی کرنا چاہتا ہوں جو متعلقہ مسئلہ کی قسط دوم میں بیان کیا گیا ہے اور جس کا حوالہ ابن الاثیر اور کردری کے علاوہ المبسوط ج۱۰،ص ۱۲۹پر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اہل موصل کی بغادت سے متعلق ہے۔ اس کو آپ نے ایسے انداز سے پیش کیا ہے جس سے ایک قاری بجز اس کے کہ اس کو مسلمان رعایا کی بغاوت سے متعلق سمجھے، دوسراکوئی مطلب نہیں لے سکتا حالانکہ یہ واقعہ مبسوط کی تصریح کے مطابق مشرکین کی بغاوت سے متعلق ہے جو موصل کے رہنے والے تھے اور جن کے ساتھ ’’دوانیقی‘‘({ FR 2252 }) نے صلح کی تھی۔ اس واقعہ میں آپ نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ منصور نے اہل موصل سے حالیہ بغاوت کرنے سے پہلے جو عہد لیا تھا وہ ان کے خون اور مال سے متعلق تھا کہ ’’آئندہ اگر وہ بغاوت کریں گے تو ان کے خون اور مال اس پر حلال ہوں گے۔‘‘ اور اسی معاملہ کے متعلق منصور نے فقہا کی ایک جماعت سے جس میں امام ابوحنیفہؒ بھی موجود تھے یہ پوچھا کہ ’’معاہدے کی رو سے ان کے خون اور مال مجھ پر حلال ہوگئے ہیں یا نہیں ؟‘‘ اور اسی کے متعلق امام نے کہا تھا کہ ’’اہل موصل سے ہاتھ روک لیجیے۔ ان کا خون بہانا آپ کے لیے حلال نہیں ہے۔‘‘ حالانکہ مبسوط کی عبارات سے صاف طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاہدہ باغیوں کے خون اور مال کی حلت و حرمت سے متعلق نہیں تھا بلکہ ان قیدیوں کے قتل سے متعلق تھا جو مشرک تھے اور باغیوں نے انھیں بطور ’’رہن‘‘ مسلمانوں کے ہاتھوں میں دے دیا تھا({ FR 2253 })اور وہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدیوں کی حیثیت سے تھے اور چونکہ معاہدے میں جانبین نے یہ شرط مقرر کر رکھی تھی کہ اگر ایک فریق نے دوسرے فریق کے قیدیوں کو قتل کر دیا تو دوسرا فریق بھی اس کے قیدیوں کو قتل کرسکے گا اور اہل موصل نے ان مسلمان قیدیوں کو پہلے قتل کر ڈالا تھا جو ان کے ہاتھوں میں قیدیوں کی حیثیت سے تھے، اس لیے علما سے یہ پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ہم ان مشرک قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کریں جو باغیوں کی طرف سے ہمارے ہاتھوں میں ہیں ۔ تو ان قیدیوں کے قتل کے متعلق امام اعظم نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ’’یہ آپ کے لیے حلال نہیں ہے۔‘‘ نہ کہ امام اعظم نے مسلمان رعایا کی بغاوت کے متعلق خود باغیوں کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ ان کا قتل جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ خود باغیوں کے بارے میں امام اعظمؒ یہ فتویٰ دے کیسے سکتے تھے کہ ان کا قتل جائز نہیں ہے۔‘‘ جب کہ امام سرخسی نے اسی باب کی ابتدا میں باغیوں کے بارے میں امام اعظمؒ کا مذہب یہ نقل کیا ہے کہ ’’باغی لوگ جب ایسے امام سے بغاوت کریں جس کی وجہ سے ملک میں امن و امان قائم ہوگیا ہو(خواہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو) تو ان کا قتل واجب ہے۔‘‘ فَإِنْ کَانَ الْمُسْلِمُونَ مُجْتَمِعِیْنَ عَلَی وَاحِدٍ وَ کَانُوا آمِنِینَ بِہِ وَالسَّبِیلُ آمِنَۃً فَخَرَجَ عَلَیہِ طَائِفَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَحِینَئِذٍ یَجِبُ عَلَی مَنْ یَقْوَی عَلَی الْقِتَالِ أَنْ یُقَاتِلَ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ الْخَارِجِینَ۔({ FR 2254 }) ’’اگر مسلمان ایک حاکم پر مجتمع ہوں ، امن و امان میں ہوں اور راستہ محفوظ ہو، پھر اس حاکم پر مسلمانوں کا ایک گروہ خروج کرے تو جو شخص لڑسکتا ہو اس پر واجب ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ہو کر خروج کرنے والوں سے لڑے۔‘‘ امام سرخسیؒ نے اس حکم کے لیے جو دلائل پیش کئے ہیں ان میں ایک یہ آیت کریمہ بھی ہے: فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىہُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللہِ۝۰ ( الحجرات :۹) ’’پس اگر ان دونوں (گروہوں ) میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو لڑو اس سے جو زیادتی کرتا ہے حتیٰ کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی جانب۔‘‘ قرآن کے اس صریح حکم کے مقابلے میں امام اعظمؒ آخر کیسے یہ کہنے کی جرأت کرسکتے تھے کہ ’’باغیوں کا قتل جائز نہیں ہے۔‘‘ اس بارے میں امام سرخسیؒ نے مبسوط میں جو تفصیل پیش کی ہے میں اسے یہاں نقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ہوں ۔ امید ہے کہ آپ خود اس مقام پر دوبارہ نظر ڈال کر ترجمان القرآن کے ذریعہ اس خط کے جواب میں اپنے مضمون کی اصلاح فرمائیں گے اور خط بھی فائدہ عام کے لیے شائع کریں گے۔
جواب
غالباًآپ نے سرسری طور پر میرے مضمون میں اس مقام کو دیکھا اور جلدی میں اظہار راے فرما دیا۔ جس جگہ یہ بحث آئی ہے وہاں زیر بحث مسئلہ یہ نہ تھا کہ اہل موصل کے معاملے کی فقہی نوعیت کیا تھی، بلکہ یہ تھا کہ امام ابوحنیفہؒ اظہار راے کے معاملہ میں کس قدر جری اور بے لاگ تھے۔ اسی بنا پر میں نے اس جگہ یہ بحث نہیں کی کہ اہل موصل کا اصل معاملہ کیا تھا آپ ص ۲۸۴سے ۲۸۷تک کا پورا مضمون دیکھیں تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ وہاں یہ گفتگو بالکل غیر متعلق تھی۔ اب آپ نے مسئلے کو چھیڑا ہے تو اس کے متعلق مختصراً عرض کئے دیتا ہوں : اہل موصل کے معاملہ میں ابن الاثیر اور الکردری کا بیان شمس الائمہ سرخسی کے بیان سے متعلق ہے۔ شمس الائمہ کہتے ہیں کہ اہل موصل جنھوں نے بغاوت کی تھی کفار تھے اور منصور سے ان کا معاملہ یہ پیش آیا تھا کہ انھوں نے منصور کے یرغمالیوں کو قتل کر دیا تھا اور ان سے شرط یہ ہوئی تھی کہ اگر وہ ایسا کریں تو منصور کو بھی ان کے یرغمالی قتل کر دینے کا حق ہوگا۔ شمس الائمہ کے بیان کی رو سے منصور نے یہی مسئلہ فقہا کے سامنے پیش کیا تھا کہ میں اہل موصل کی اس شرط کے مطابق ان کے یرغمالیوں کو قتل کرنے کا مجاز ہوں یا نہیں ۔ دوسری طرف ابن الاثیر کا بیان ہے کہ موصل میں حسان بن مجالد نے خروج کیا تھا، اور منصور نے فقہا کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا تھا وہ یہ نہ تھا کہ میں ان باغیوں کےخلاف قتال کرسکتا ہوں یا نہیں بلکہ یہ تھا کہ: اِنَّ أَھْلَ الْمُوصِلَ شَرَطُوا إلیٰ أَنَّھُمْ لَا یَخْرُجُونَ عَلیَّ فَإِنْ فَعَلُوا حلَّتٌ دِمَاؤھُمْ وَأَمْوَالُھُمْ۔({ FR 2255 }) ’’یعنی اہل موصل مجھ سے یہ شرط کرچکے ہیں کہ اگر آئندہ کبھی وہ میرے خلاف خروج کریں تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہوں گے۔‘‘ خون اور مال کے حلال ہونے کا مطلب آپ خود جانتے ہیں کہ کسی کے خلاف محض قتال کا جائز ہونا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ اگر ہم لڑ کر اس گروہ پرغالب آجائیں تو ہمارے لیے پھر اس کے تمام بالغ مردوں کو قتل کر دینا اور اس کے اموال لوٹ لینا حلال ہو۔ یہی سوال دراصل منصور نے فقہا کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس کا جواب بعض دوسرے فقہا نے یہ دیا کہ وہ لوگ خود ازروے معاہدہ اپنے خون اور مال آپ کے لیے حلال کر چکے ہیں ۔ اس لیے اگر آپ ایسا کرنا چاہیں تو اس کے مجاز ہیں ۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس کو ناجائز قرار دیا۔ قریب قریب یہی بات الکردری نے بھی لکھی ہے۔ اب آپ فرمائیں کہ آپ کو اس پر کیا اعتراض ہے۔ کیا امام ابوحنیفہؒ کا مسلک یہی ہے کہ مسلمان باغیوں پر اگر حکومت غالب آجائے تو وہ ان کے تمام بالغ مردوں کا قتل عام کرکے ان کے اموال لوٹ لینے کی مجاز ہے، قطع نظر اس سے کہ ان مسلمان باغیوں نے پہلے خود یہ شرط قبول کی ہو یا نہ کی ہو؟ میرے نزدیک اس معاملہ میں ابن الاثیر اور الکردری کا بیان ہی درست ہے اور شمس الائمہ کا بیان تاریخی طور پر درست نہیں ہے۔، کیونکہ منصور کے زمانے میں نہ تو موصل میں کوئی کافر حکومت تھی اور نہ کفار اہل ذمہ کا وہاں اتنا زور تھا کہ وہ عباسی خلافت کےمقابلے میں بغاوت کرسکتے۔ لیکن چونکہ میں نے اس سارے معاملہ کو ایک دوسرے ہی پہلو سے لیا ہے، اس لیے امام کی جرأت حق گوئی کی مثال کے طور پر میں نے تینوں مصنفین کا حوالہ دےدیا ہے کیونکہ اس پہلو میں ان کے درمیان اتفاق ہے۔ (ترجمان القرآن، نومبر، ۱۹۶۳ئ)

Leave a Comment