خلافت کے لیے قریشیّت کی شرط

اسلام تمام دنیا کو پیغام دیتا ہے کہ سب انسان بحیثیت انسان ہونے کے برابر ہیں ،گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ،اسلام کے حرم میں داخل ہوتے ہی سب اونچ نیچ برابر ہوجاتی ہے،اگر کوئی فرق رہتا ہے تو وہ بس اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ )الحجرات:۱۳) ’’اللہ کے ہاں تمھارے اندر سب سے زیادہ معزز سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘ کے اصول پر رہتا ہے۔پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے جس کا مفہوم یہ یا اس کے قریب ہے کہ خلافت قریش میں رہنی چاہیے۔ یہ صحیح ہے تو پھر ہٹلر ہی نے کیا بُرا کیا اگر اپنی قوم کو تمام دنیا کی قوموں پر فائق اور سرداری کاحق دار ٹھیرایا؟اور پھر اگر ایک قریشی کے لیے یہ حق ہے کہ قریش کو نہ صرف عجم پر بلکہ خود اہلِ عرب پر بھی فوقیت دے تو آخر مغربی اقوام ہی دوسری قوموں کو کم تر ٹھیرانے میں کیوں حق بجانب نہیں ؟اسلام کی اس دعوت کو حدیث کی اس روایت کے ساتھ کیوں کر منطبق کیا جاسکتا ہے؟
جواب
بسا اوقات آدمی ایک خاص ماحول میں خاص موقع ومحل پر ایک بات کہتا ہے جو اپنی جگہ بالکل صحیح ہوتی ہے،لیکن جب وہی بات اپنے محل سے الگ کرکے نقل کی جاتی ہے تو اس کی شکل کچھ اور ہی بن جاتی ہے اور اس سے ایسے معنی نکل آتے ہیں جو خود قائل کے منشا کے بالکل خلاف ہوتے ہیں ۔ ایسا ہی معاملہ اُس معنی کی احادیث کے ساتھ بھی پیش آیا ہے جس کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ حتیٰ کہ اسی غلط فہمی میں پڑ کر فقہاے اسلام کے ایک بڑے گروہ نے خلافت کے لیے من جملہ اور شرائط کے قرشیت کو بھی ایک قانونی شرط قرار دے لیا۔ حالاں کہ نبی ﷺکا منشا کچھ اور تھا۔ اصل یہ ہے کہ آں حضرت ﷺ ایک طرف اسلام کے اصولوں کی دعوت وتبلیغ بالکل بے لاگ طریقے سے فرماتے تھے، تو دوسری طرف ایک بالغ النظر مدبّر کی حیثیت سے وقت اور سوسائٹی اور ماحول کے واقعی حالات پر بھی گہری نگاہ رکھتے تھے اور ایسی تدابیر عمل میں لانے سے پرہیز فرماتے تھے جو چاہے اصولاً اپنی جگہ صحیح ہوں مگر واقعی حالات کا لحاظ کیے بغیر ان کو عملی جامہ پہنا دینے سے عظیم ترفتنہ رونما ہونے کا اندیشہ ہو۔ آپ نے اس وقت کے عرب کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھا تھا،اور بالکل ٹھیک سمجھا تھا کہ قریش کا قبیلہ اپنے مردانِ کار کی قابلیت اوراپنے اُن اثرات کی بِنا پر جو اسے صدیوں سے ملک میں حاصل تھے،اتنا طاقت ور قبیلہ ہے کہ اگر اس کی موجودگی میں آپ کے بعدکسی غیر قرشی کو امیر بنا دیا گیا تو وہ کام یاب نہ ہوسکے گا۔ اسلام کی جو جمہوری روح آپﷺ نے لوگوں میں پھونک دی تھی،اس کی بِنا پر عین ممکن تھا کہ مسلمان اس روح کا مظاہرہ کرنے کے لیے آپﷺ کے بعد کسی آزاد کردہ غلام کو خلیفہ بنالیتے، یا کسی بے اثر قبیلے کے شیخ کو منتخب کرلیتے۔ لیکن اس وقت ملک کا اجتماعی نظام عملاً جس طرح کا تھا اس کو دیکھتے ہوئے یہ نہایت غلط تدبیر ہوتی۔اسی وجہ سے آپﷺ نے لوگوں کو سمجھا دیا کہ آپ کا جانشین کوئی قریشی ہونا چاہیے۔ حضورﷺ کا یہ انداز ہ اس قدر صحیح تھا کہ تاریخ آپ کے بعد صدیوں تک اس کی صحت کا ثبوت دیتی رہی ہے۔قریش کے قبیلے کی زبردست مردم خیزی کا حال یہ تھا کہ خلافتِ راشدہ کے دور میں چاروں خلیفہ اسی نے فراہم کیے، اور معلوم ہے کہ ان چاروں کی ٹکر کا کوئی آدمی فی الواقع اس وقت عرب میں نہ تھا۔پھر اسی قبیلے نے عظیم الشان اُموی سلطنت قائم کی، اسی نے عباسی سلطنت کو جنم دیا، اِ سی نے اسپین میں ایک زبردست حکومت کھڑی کردی، اور اسی نے مصر میں دولت فاطمیہ کی تاسیس کی۔ ایسی زبردست قابلیتوں اور اثرات کے مالک قبیلے کی موجودگی میں اگر عملی سیاست کو نظر انداز کرکے محض نظری سیاست کا مظاہرہ کیا جاتا تو نتیجہ خلافت کی ناکامی کی صورت میں نکلتا۔ پس نبیﷺ نے جو کچھ فرمایا تھا وہ قانونی حیثیت سے نہ تھا کہ ازرُوئے شرع خلیفہ کو قریشی ہونا چاہیے اور غیر قریشی کو خلافت کا حق ہی نہیں ہے،بلکہ وہ عملی سیاست کے لحاظ سے ایک ہدایت تھی اور ساتھ ہی آپﷺ نے یہ پیشین گوئی بھی کردی تھی کہ جب تک قریش اپنے اخلاق بلند رکھیں گے اور فی الجملہ دین کی علم برداری کرتے رہیں گے اور ان میں دو آدمی بھی مردانِ کار پائے جائیں گے، ریاست انھی کو حاصل رہے گی۔ یہ جو کچھ عرض کررہا ہوں ،احادیث کے تتبع سے اس کی پوری وضاحت ہوسکتی ہے۔ مسند احمد میں عمرو بن عاصؓ کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا : قُرَیْشُ قَادَۃُ النَّاسِ({ FR 2212 }) ’’قریش اہل عرب کے لیڈر ہیں ۔‘‘ بیہقی میں حضرت علیؓ کی روایت اس معنی پر مزید روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں حضورؐ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي حِمْيَرَ، فَنَزَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ، فَجَعَلَهُ فِي قُرَيْشٍ({ FR 2213 }) ’’پہلے عرب کی سرداری حمیر({ FR 2214 }) والوں کو حاصل تھی، پھر اﷲ نے ان سے چھین کر قریش کو دے دی۔‘‘ دوسری روایت میں اس مضمون کی اور زیادہ تشریح ملتی ہے، مثلاً النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ…({ FR 2215 }) ’’بھلائی ہو یا برائی، دونوں راستوں میں اہلِ عرب قریش ہی کے پیچھے چلتے ہیں ۔‘‘ ’’فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّهِمْ، وَفَاجِرُهُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِهِمْ({ FR 2216 }) ’’اچھے لوگ قریش کے اچھوں کی اور بدکار لوگ قریش کے بدکاروں کی پیروی کرتے ہیں ۔‘‘ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ ({ FR 2217 }) ’’اہل عرب سرداری قریش ہی کی مانتے ہیں ، مسلمان، قریش کے مسلمانوں کی پیروی کرتے ہیں اورکافر، قریش کے کافروں کی۔‘‘ اسی مضمون کو حضرت ابو بکرؓ نے بھی اپنی سقیفۂ بنی ساعدہ والی تقریر میں بیان فرمایا کہ وَلَمْ تَعْرِفِ الْعَرَبُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ({ FR 2218 }) ’’اہل عرب تو قبیلۂ قریش کے سوا کسی اور کی سرداری سے آشنا ہی نہیں ہیں ۔‘‘ یہ سب کچھ بیان واقعہ ہے۔ جو کچھ اس وقت عرب کے واقعی حالات تھے اور صدیوں کی تاریخ نے جو حقیقی صورت حال پیدا کردی تھی،وہی ان روایات میں بیان کردی گئی ہے۔ان میں کہیں بھی کوئی لفظ ایسانہیں ہے جس سے یہ معنی نکلتے ہوں کہ نبیؐ کی خواہش یہ تھی کہ قریش سردار ہوں ۔ بلکہ اس واقعے کو بطور ایک واقعے کے بیان کیاگیا ہے کہ قریش ملک کے سردار ہیں ۔ یہ واقعہ نبیؐ کی تشریف آوری سے پہلے وجود میں آچکا تھا۔ساری قوم کی نفسیات پر یہی لوگ چھائے ہوئے تھے۔زندگی کے ہرپہلو میں یہ آگے تھے اور قوم ان کے پیچھے چلتی تھی۔پھر جب کہ کفر کی طرح اسلام میں بھی یہی پیش پیش رہے اور اِنہی کے اثر سے اہلِ عرب نے اس دین کو قبول کیا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ان کی اس واقعی اور تاریخی سرداری کے خلاف جنگ کرنے اور اسے بدلنے کی کوشش میں خواہ مخواہ قوت ضائع کی جاتی۔ اس بِنا پر نبی ﷺ نے قوم کو ہدایت فرمائی کہ اس واقعے کو تسلیم کرتے ہوئے زمانۂ اسلام میں بھی قریش کو سرداری کے مرتبے پر قائم رہنے دو : قَدِّمُوا قُرَيْشًا وَلَا تَقَدَّمُوهَا ({ FR 2219 }) ’’قریش کو آگے رکھو، ان کے مقابلے میں آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو۔‘‘ پھر آپؐ نے متعد د مواقع پر اس بات کی بھی صراحت فرما دی کہ قریش اس مرتبے پر اس وقت تک سرفرا زہوں گے جب تک ان میں سرداری کی صلاحیت رہے گی اور جب تک وہ اس دین کو قائم رکھیں گے: إِنَّ هَذَا الأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لاَ يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ، إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ، مَا أَقَامُوا الدِّينَ({ FR 2220 }) ’’یہ سرداری قریش میں باقی رہے گی اور جو ان کا مقابلہ کرے گا،اﷲ اس کو منہ کے بل گرا دے گا،جب تک وہ اس دین کو قائم کرتے رہیں گے۔‘‘ الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، إِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَوْا، وَإِنِ اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا({ FR 2221 }) ’’سردار قریش ہی سے ہوتے رہیں گے،جب تک وہ اپنے حکم میں انصاف اور اپنے وعدوں کو وفا اور خلق اﷲ پر رحم کرتے رہیں گے۔‘‘ لاَ يَزَالُ هَذَا الأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَانِ({ FR 2222 }) ’’یہ سرداری قریش میں رہے گی جب تک ان میں دو مردانِ کار بھی باقی رہیں گے۔‘‘ ان ارشادات میں صریح طور پر یہ بات متضمن ہے کہ جب قریش اپنی اس اہلیت کو کھو دیں گے توسرداری ان سے نکل جائے گی اور غیر قرشی بلکہ غیر اہل عرب تک سردار وپیشوا بن جائیں گے۔اگر اسلامی شریعت میں ازروے ضابطہ خلافت صرف قریش ہی کا حق ہوتی اور غیر قریشی کو کسی صورت میں یہ حق پہنچتا ہی نہیں تو یہ بات آخر کیسے کہی جاسکتی تھی۔ (ترجمان القرآن،اپریل۱۹۴۶ء)

Leave a Comment