دارالاسلام کی ایک نئی تعریف

دارالکفر، دارالحرب اور دارالاسلام کی صحیح تعریف کیا ہے؟دارالکفراور دارالاسلام میں کس چیز کو ہم اصلی اور بنیادی قرار دے سکتے ہیں ؟ مجھے اس مسئلے میں تردّد مولانا حسین احمد صاحب مدنی ؒ کی حسب ذیل عبارت سے ہوا ہے؟ ’’اگر کسی ملک میں اقتدار اعلیٰ کسی غیر مسلم جماعت کے ہاتھوں میں ہو لیکن مسلمان بھی بہرحال اس اقتدار میں شریک ہوں اور ان کے مذہبی ودینی شعائر کا احترام کیا جاتا ہو، تو وہ ملک حضرت شاہ صاحب ({ FR 2280 }) کے نزدیک بے شبہہ دارالاسلام ہوگا اور ازروے شرع مسلمانوں کا فرض ہوگا کہ وہ اس ملک کو اپنا ملک سمجھ کر اس کے لیے ہر نوع کی خیر خواہی اور خیر اندیشی کا معاملہ کریں ۔ ‘‘ ({ FR 2281 }) آپ اس مسئلے میں میری راہ نمائی فرمائیں ۔
جواب
آپ نے اپنا سوال مجھ سے کرنے کے بجاے مولانا حسین احمدصاحب ہی سے کیا ہوتا تو بہتر تھا۔ آپ ان سے پوچھیے کہ ہندستان کی موجودہ حکومت میں مسلمان جس درجہ شریک ہیں اور ان کے مذہبی ودینی شعائر کا جیسا کچھ احترام کیا جاتا ہے، اس سے تو بدرجہ ہا زیادہ وہ انگریزی دَور میں شریک حکومت تھے، اور اس سے بہت زیادہ ان کے شعائر مذہبی کا احترام انگریزی دور میں ہو رہا تھا۔ اگر کسی کو اس سے انکار ہو تو انگریزی دور کے مسلم وزرا اور ایگزیکٹو کونسل کے مسلم ممبروں اور فوجی اور سول محکموں کے مسلم ملازموں کی تعداد کا موجودہ بھارتی حکومت کے ہر شعبے میں حصہ پانے والے مسلمانوں کی تعداد سے مقابلہ کرکے ہر وقت اسے قائل کیا جاسکتا ہے۔ رہا شعائر مذہبی کا احترام، تو موجودہ ہندو اقتدار کے دور میں مساجد کی جتنی بے حرمتی ہوئی ہے، اس کامقابلہ انگریزی دور سے کرکے دیکھ لیا جائے۔ اس دور میں مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی عورتوں کی عصمت پر جتنے حملے ہوئے ہیں ، ان کا مقابلہ انگریزی دور کے ایسے ہی حملوں سے کرلیا جائے۔ اور اس دور میں مسلمانوں کے پرسنل لا کا جو حشر ہوا ہے، اس کے مقابلے میں دیکھ لیا جائے کہ ڈیڑھ سو برس کے انگریزی دور میں اس پرسنل لا کا کیا حال رہا ہے۔ اب اگر’’ حضرت شاہ صاحب کی تعریف کے مطابق موجودہ بھارت بے شبہہ دارالاسلام ہے‘‘ تو انگریزی دور کا ہندستان کیوں نہ تھا؟آپ مولانا سے صاف صاف وہ وجہ فرق وامتیاز پوچھیں جس کی بِنا پر ان کو انگریزی دور کا ہندستان تو دارالکفر نظر آتا تھا اور موجودہ ہندستان دارالاسلام نظر آتا ہے۔ اس سوال کاجو جواب مولانا دیں ،اس سے مجھے بھی مطلع فرمایے، تاکہ میں بھی اس نئی فقہی تحقیق سے فائدہ اٹھا سکوں ۔میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ موجودہ بھارت بھی اگر دارالاسلام ہے تو پھر دنیا میں کوئی ملک دارالکفر ہو بھی سکتا ہے یا نہیں ؟ مولانا حسین احمد صاحب کے معتقدین چاہے کتنا ہی بُرا مانیں ، مگر امر واقعہ یہ ہے کہ آج مولانا کی قیادت میں دیو بند اس مقام سے بھی بدرجہ ہا زیادہ فرو تر مقام پر کھڑا ہے جہاں انگریزی دور اقتدار کے آغاز میں علی گڑھ کھڑا ہوا تھا۔سرسیّد اور چراغ علی اور محسن الملک وغیر ہم نے انگریزی اقتدار کے ساتھ مصلحت کرنے میں اس تنزل کا عشر عشیر بھی اختیار نہیں کیا تھا جو اب مولانا حسین احمد اور ان کے ہم خیال علما نے ہند واقتدار کے ساتھ مصالحت میں اختیار کیا ہے۔ان نیچریوں نے اسلامی تصورات کو مسخ کرنے میں وہ جسارت کبھی نہ دکھائی تھی جس کا اظہار اب یہ سکہ بند علما کررہے ہیں ، اور غضب یہ ہے کہ اپنے ساتھ خاندان شاہ ولی اﷲ اور اپنے دوسرے اکابر کو بھی لے ڈوبنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے تقدس پر آنچ نہ آنے دیں ۔ (ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۵۸ء)

Leave a Comment