دجّال

’’کانا دجّال‘‘ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے، تو آخر وہ کون سی جگہ ہے؟ آج تو دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے، پھر کیوں کانے دجّال کا پتا نہیں چلتا؟
جواب
یہ’’کانا دجّال‘‘(کہ وہ کہیں مقید ہے) وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ان چیزوں کو تلاش کرنے کی ہمیں کوئی ضرورت بھی نہیں ۔عوام میں اس قسم کی جو باتیں مشہور ہوں ،ان کی کوئی ذمہ داری اسلام پر نہیں ہے، اور ان میں سے کوئی چیز اگر غلط ثابت ہوجائے تو اس سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ (ترجمان القرآن، ستمبر،اکتوبر ۱۹۴۵ء)

Leave a Comment