دعوت کے اثر کے لیے سچائی اور تقویٰ کی ضرورت

]ملازمت چھوڑے کی وجہ سے[ عوام میں میری بے اثری بڑھ رہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جس ذوق وشوق سے دورانِ ملازمت میں وہ میری بات سنا کرتے تھے یا حمایت کا دم بھرا کرتے تھے ، اب وہ ختم ہورہا ہے۔ بلکہ میری باتوں کا اُن پر اُلٹا اثر ہوتا ہے۔مہربانی فرماکر راہ نمائی کیجیے۔
جواب
ملازمت کے زمانے میں آپ کے ذاتی اور خاندانی اثر کی بدولت جو لوگ آپ کا اثر قبول کررہے تھے،وہ حقیقت میں دین کی دعوت سے متاثرنہیں ہورہے تھے، بلکہ وہ جاہ ومال کے بُت کی پوجا کررہے تھے۔ اور آئندہ بھی اگر آپ اس پوزیشن پر رہیں تویہ دھوکا نہ کھایئے گا کہ لوگوں کو آپ خدا پرست بنا رہے ہیں ۔سچے خدا پرست تو وہی لوگ ہوں گے جو آپ کی دنیوی پوزیشن کو دیکھ کر نہیں بلکہ آپ کی دعوت کی سچائی اور آپ کے تقویٰ کو دیکھ کر متاثر ہوں گے۔میرے نزدیک تو آپ صحیح معنوں میں دعوتِ حق کے داعی اسی وقت بنیں گے جب تمام اعزازات آپ سے چھن جائیں ، زمین آپ کو جگہ دینے سے انکار کردے اور وہ سب جو کل تک آپ کے سامنے جھکے پڑتے تھے، آپ کو ردّ کرنے اور آپ سے منہ پھیرنے پر اُتر آئیں ۔ یہ صورتِ حال ہے تو بہت خطرناک لیکن اس راہ میں یہی کچھ مفید ہے۔اگر خدا نے آپ کو اتنی طاقت دی کہ آپ اسے برداشت کرنے کے قابل ہوجائیں تو اس کا حقیقی فائدہ آپ کو آگے چل کر معلوم ہوگا اور اسی وقت آپ کو اﷲ تعالیٰ جھوٹے رفیقوں کی رفاقت سے بچاکر سچے رفیق بہم پہنچائے گا۔ (ترجمان القرآن،جولائی اگست ۱۹۴۵ء)

Leave a Comment