دوسرے فقہی مذاہب پر عمل کا حکم

ہمارے اس زمانے میں مذاہب ِ اربعہ میں سے کسی ایک کی پابندی پہلے سے زیادہ لازمی ہوگئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی صاحب علم وفضل چار معروف مذاہب فقہ کو چھوڑ کر حدیث پر عمل کرنے یا اجتہاد کرنے کا حق دار ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کس دلیل سے؟اور اگر جائز ہے تو پھر طحطاوی میں ایک بڑے صاحب کما ل فقیہ کے اس قول کا کیا مطلب ہے: اَلْمُنْتَقِلُ مِنْ مَذْھَبٍ إِلٰی مَذْھَبٍ بِإِ جْتِھَادٍ وَبُرْھَانٍ اٰثِمٌ یَسْتَوْجِبُ التَّعزِیْرَ۔ ({ FR 2049 })
جواب
میرے نزدیک صاحب علم آدمی کے لیے تقلید ناجائز اور گناہ بلکہ اس سے بھی کچھ شدید چیز ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ اپنی تحقیق کی بِنا پر کسی ایک اسکول کے طریقے اور اُصول کا اتباع کرنا اور چیز ہے اور تقلید کی قسم کھا بیٹھنا بالکل دوسری چیز۔اور یہی آخری چیز ہے جسے میں صحیح نہیں سمجھتا۔ رہا طحطاوی کا وہ فتویٰ جو آپ نے نقل کیا ہے،تو وہ خواہ کتنے ہی بڑے عالم کا لکھا ہوا ہو،میں اس کو قابلِ تسلیم نہیں سمجھتا۔میرے نزدیک ایک مذہب فقہی سے دوسرے مذہب فقہی میں انتقال صرف اس صورت میں گناہ ہے جب کہ یہ فعل خواہش نفس کی بِنا پر ہو نہ کہ تحقیق کی بِنا پر۔ (ترجمان القرآن ، جولائی ،اکتوبر ۱۹۴۴ء)

Leave a Comment