دیگر ادیان و مذاہب کی کتابوں سے استفادہ

آپ کی تصنیف ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ کے مطالعے کے بعد میرا یقین تھا کہ سنسکرت زبان پر آپ کا عبور ایک لازمی چیز ہے۔ مگر اس شام سیر کے وقت دورانِ گفتگو میں آپ کا یہ فرمانا کہ آپ نے سب کچھ ویدوں کے بارے میں انگریزی کتابوں سے لیا ہے، سچ مُچ یہ جملہ سن کر ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی شخص برقی رَو کے چھو جانے سے جھٹکا سا محسوس کرتا ہے۔ جیسے آپ نے فرمایا تھا کہ ایچ جی ویلز کا اسلام کے بارے میں براہ راست کیا علم ہے جو انھوں نے اسلام اور حضرت محمد (ﷺ) کی پاکیزہ زندگی پربے معنی نکتہ چینی کرکے رکھ دی، بعینہٖ آپ کا سنسکرت زبان سے براہِ راست تعلق نہ ہونے کی وجہ سے وید بھگوان کے بارے میں آپ کے احساسات مستندنہیں کہے جاسکتے۔آپ تسلیم کریں گے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں آزادانہ ترجمہ کرنے پر بھی اصل منشا پورا نہیں ہوتا،چہ جائیکہ اسے پھر تیسری زبان میں پیش کیا جائے۔ رشی دیا نند نے تو مہی دھرا اور رسائن آچاریہ کے وید بھاشیہ کو ہی لغو ٹھیرایا ہے،پھر کہاں آپ ’’مَیکس مُلر‘‘ اور دیگر یورپین اصحاب کے ترجمے سے راے قائم کرتے ہیں ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی ان نیک اور بلند خواہشات کا جو آپ ہندوئوں کے دل ودماغ سے تعصب دُور کرکے انھیں اسلام سے صحیح طورپر روشناس کرانے کے لیے اپنے دل میں رکھتے ہیں ،احترام کرتے ہوئے میں مؤدّبانہ گزارش کروں گا کہ آپ آئندہ اپنی ان کتابوں پر نظر ثانی فرماتے وقت،جن میں خاص طور پر ہندولٹریچر کے حوالے (references) پائے جاتے ہیں ،کسی ایسے شخص کی امداد حاصل کریں جو ہندو ابھیاس اور ہندو لٹریچر پر براہِ راست عبور رکھتا ہو۔(مجھے ذاتی طور پر ایسے ایک دو اصحاب سے قربت کا فخر حاصل ہے)۔اُمید ہے کہ آپ کی ذات مبارک پر میرا منشا واضح ہوگیا ہوگا۔
جواب
آپ کا یہ اعتراض صحیح ہے کہ میں نے سنسکرت زبان اور ہندوئوں کی مذہبی کتابوں سے براہِ راست واقفیت کے بغیر محض یورپین ترجموں کے اعتماد پر اپنی کتاب میں ویدوں سے کیوں بحث کی۔ لیکن آپ نے اس بات کا خیال نہیں کیا کہ ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ بالکل میرے ابتدائی عہد کی تصنیف ہے جب مذاہب کے معاملے میں میرا رویہ پُوری طرح پختہ نہیں ہوا تھا اور نہ وہ احتیاط طبیعت میں پیدا ہوئی تھی جو تحقیق کے لیے ضروری ہے۔ اب اگر میں اس کتاب کو دوبارہ لکھوں گا تو ہر اس چیز کی جس کی براہِ راست واقفیت کا موقع مجھے نہیں ہے، ازسرِ نو تحقیق کروں گا۔آپ اگر اس تحقیق میں میری کچھ مدد کرسکتے ہیں تو میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا۔ کوئی ہندو عالم جو محض حامی دین(defender of the faith) ہی نہ ہو، بلکہ خود محقق بھی ہو اور محققانہ انصاف بھی اپنے اندررکھتا ہو،اگر میری کتاب کے اِس حصے پر جو ہندوئوں سے متعلق ہے، تنقید کرکے مجھےہوئے بتائے کہ میں نے کہاں کہاں غلطی کی ہے تو اس سے مجھے بہت مدد ملے گی۔اس کے علاوہ اگر آپ مجھے کوئی ایسی کتاب بتائیں جس میں ہندو مذہب کے مقصدِ جنگ اور قوانین جنگ کو بناوٹ کے بغیر، جیسے کہ بجاے خود وہ ہیں ، پیش کیا گیا ہو تو مزید باعثِ شکر گزاری ہوگا۔ ’’بناوٹ کے بغیر‘‘ کی شرط میں اس لیے لگا رہا ہوں کہ آج کل عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک مذہب پر،جیسا کہ وہ بجاے خود ہے،ایمان نہیں رکھتے مگر قومی عصبیت کی خاطر اس مذہب کو اور اپنے مذہبی طرز عمل کو ’’معقول‘‘بنانے کے لیے وہ اکثر موجودہ نظریات کے مطابق ایک نیا مذہب گھڑتے ہیں اورپرانے مذہب کے نام سے اسے پیش کرتے ہیں ۔مجھے اس طریقے سے سخت نفرت ہے خواہ اسے مسلمان برتیں یا ہندو یا کوئی اور۔میرا خود بھی یہ طریقہ ہے اور میں پسند بھی صرف ایسے ہی لوگوں کو کرتا ہوں جو اصل مذہب کو، جیسا کہ فی الواقع وہ ہے،ویسا ہی رہنے دیں اور ویسا ہی اسے پیش کریں ، پھر اگر وہ ماننے کے لائق ہو تو اُسے مانیں اور ماننے کے لائق نہ ہو تو اسے رد کردیں ۔ (ترجمان القرآن ، مارچ- جون۱۹۴۵ء)

Leave a Comment