رسول اللّٰہ ﷺ کی تاریخ وفات و ولادت

میرے دل میں سخت پریشانی ہے کہ فرقہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ سرکار رسالت مآب کی وفات و ولادت۱۲؍ ربیع الاول ہے اور فرقہ شیعہ کا خیال ہے کہ حضور ﷺ کی پیدائش ۱۷؍ ربیع الاول اور وفات ۲۸؍صفر ہے۔ حضورؐ کی وفات کے وقت اہل بیت و صحابہ کرام دونوں موجود تھے۔ اختلاف کیوں ہوا اور کب ہوا؟ اصحابِ محمدؐ و اہل بیت محمدؐ کے زمانے میں ان کا کیا عمل تھا؟ طبیعت پریشان ہے۔
جواب
اہل سنت کی روایات میں اس بات پر اتفاق ہے کہ حضور ﷺ کی ولادت اور وفات ربیع الاول میں پیر کے روز ہوئی تھی۔ البتہ تاریخوں میں اختلاف ہے۔ ولادت مبارکہ کے بارے میں کسی نے ۲، کسی نے۸، کسی نے۱۲ اور کسی نے۱۷ تاریخ لکھی ہے، لیکن جمہور اہل سنت کے ہاں مشہور تاریخ۱۲؍ربیع الاول ہے۔({ FR 1675 }) اسی طرح وفات کے بارے میں کسی نے یکم ربیع الاول، کسی نے ۲اور کسی نے۱۰ تاریخ لکھی ہے، مگر جمہور اہل سنت میں مشہور تاریخ ۱۲؍ ربیع الاول ہی ہے۔ اہل سنت کی روایات کے مطابق حضورﷺ کی وفات اور ولادت کے بارے میں صحابہ کرام اور اہل بیت کے ہاں نہ کوئی عمل رائج تھا نہ کسی قسم کی تقریبات ہوتی تھیں ۔ اہل تشیُّع کی مشہور کتاب علامہ کُلینی کی اصول کافی میں بھی تاریخ پیدائش و وفات دونوں ۱۲؍ ربیع الاول ہی درج ہیں ۔({ FR 1676 }) لیکن علماے شیعہ کا اتفاق اس پر ہے کہ تاریخ ولادت ۱۷؍ ربیع الاول اور تاریخ وفات ۲۸ صفر ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، ائمہ اہل بیت بھی حضورﷺ کی ولادت یا وفات کے دن کوئی تقریب منعقد نہیں کرتے تھے۔ یہ تعین کرنا بہت مشکل ہے کہ تاریخوں میں اختلاف کیوں ہوا اور کب ہوا؟ (ترجمان القرآن، مارچ ۱۹۷۷ء)

Leave a Comment