رسول اللّٰہ ﷺ کے وضو کے پانی سے برکت حاصل کرنا

صحیح البخاری، باب استعمال فضل وضوء الناس حدیث :۱۸۸ میں آتا ہے: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَهُمَا اِشْرِبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا({ FR 2178 }) پانی کے برتن میں ہاتھ دھونا،پھر اس میں کلی کرنا، اور ان سب کے بعد لوگوں سے کہنا کہ اسے پیو اور اس سے منہ دھوئو۔یہ سب کچھ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی نفاست پسندی کے عام کلیہ کے مخالف معلوم ہوتا ہے ۔پھر صحابہ کا اس سلسلے میں بے خود ہوکر اس کو استعمال کرنا اور بھی عجیب معلوم ہوتا ہے ۔اس کی وضاحت مطلوب ہے۔
جواب
]اس [ واقعے کی نوعیت بھی وہی ہے جو اوپر کے واقعے کی ہے ۔لیکن اس کی پوری تفصیل جو[صحیح] بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الطائف({ FR 2179 }) میں آئی ہے،اگر نگاہ میں رہے تو وہ بات زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جو اوپر میں نے بیان کی ہے۔ قصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے غزوہ حنین کے غنائم برسر موقع تقسیم کرنے کے بجاے جعرانہ پہنچ کر تقسیم کرنے کا فیصلہ فرمایا تھا اور اس وجہ سے بعض نئے نئے ایمان لاے ہوئے لوگ بڑے بے صبرہورہے تھے۔جب آپؐ جعرانہ پہنچے تو ایک بدو نے آکر اپنے حصے کا مطالبہ کیا۔حضورﷺ نے فرمایا:’’ تجھے بشار ت ہو‘‘(یعنی اس بات کی بشارت کہ عن قریب حصے تقسیم ہوں گے اور اب تک جو تو نے صبر کیا ،اس کا اجر ملے گا)۔اس نے تڑخ کر کہا:’’آپ کی یہ بشارتیں میں بہت سن چکا ہوں ۔‘‘حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اور حضرت بلالؓ اس وقت حاضر تھے۔ حضور ﷺ نے ان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا : ’’اس نے میری بشارت رد کردی۔تم دونوں اسے قبو ل کرو۔‘‘ دونوں نے عرض کیا:’’ہم نے قبول کی۔‘‘ پھر آپؐ نے ایک پیالہ بھر پانی منگوایا۔ اس میں ہاتھ اورمنہ دھویا اور کلی کی۔ پھر دونوں صاحبوں سے فرمایا: تم اسے پی لو اور اپنے منہ اور سینے پر ڈالو اور بشارت لو۔ چنانچہ دونوں نے ایسا ہی کیا۔ پردے کے پیچھے اُم المومنین حضرت ام سلمہؓ بیٹھی تھیں ۔ انھوں نے پکارکر دونوں صاحبوں سے کہا: کچھ اپنی ماں کے لیے بھی بچا لینا۔ یہ سن کر انھوں نے تھوڑا سا پانی بچالیا اور انھیں بھی دیا۔ اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ دراصل اس بدو کو یہ سبق دینا چاہتے تھے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود اس نے جو اس بے بہا بشارت کو رد کیا ہے یہ کیسی ناشکری اور بدبختی ہے، اور سچے اہل ایمان کا اپنے نبی کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے ۔حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی روایت کا انداز اور پھر ام سلمہ ؓ کا اس پانی میں سے اپنا حصہ طلب کرنا صاف بتاتا ہے کہ یہ حضرات اس مبارک پانی کو لے کر پینے اور منہ اور سینے پر ملنے میں کراہت محسوس کرنا تو درکنار، اسے اپنے لیے آب حیات سمجھتے تھے، اس کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر مسابقت کرتے تھے، اور انھیں فخر تھا کہ یہ نعمت انھیں نصیب ہوئی۔ (ترجمان القرآن،اگست ۱۹۶۰ء)

Leave a Comment