رسول اللہ ﷺکی ازواجِ مطہرات سے قربت

میں نے تجرید البخاری مؤلفہ علاّمہ حسین بن مبارک متوفی ۹۰۰۱ھ کے اُردو ترجمے میں جو فیروز الدین صاحب نے لاہور سے شائع کیا ہے، صفحہ۸۱ پر ایک حدیث کا مطالعہ کیا جو حسب ذیل ہے: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اپنی ازواج مطہراتؓ کے پاس ایک ہی ساعت کے اندر رات دن میں دورہ کرلیتے تھے۔ اور وہ گیارہ تھیں (ایک روایت میں آیا ہے کہ نو تھیں ) حضرت انسؓ سے پوچھا گیا کہ آپؐ ان سب کی طاقت رکھتے تھے؟ وہ بولے ہم تو کہا کرتے تھے کہ آپ کو تیس مردوں کی قوت دی گئی ہے۔ جناب والا سے میں توقع رکھتا ہوں کہ براہ کرم مذکورہ بالا حدیث کی صحت پر روشنی ڈالیں ۔ کیا یہ امرِ واقعہ ہے کہ حضورﷺ نے ایک ہی ساعت کے اندر اپنی جملہ ازواج مطہراتؓ سے مقاربت کی ہے؟ اور اگرمقاربت کی ہے تو حضرت انسؓ کو کس طرح اس کا علم ہوگیا؟ کیا حضورؐ نے حضرت انسؓ سے اس مقاربت کا ذکر فرمایا؟ یا ازواج مطہراتؓ میں سے کسی نے اس ازدواجی تعلق کا راز فاش کیا؟ یا حضرت انسؓ کو آں حضرت کی خلوت کا ہر وقت علم ہوتا رہتا تھا؟ یا حضرت انسؓ خود اس خلوت کا علم حاصل کرنے کی کھوج میں لگے رہتے تھے؟ آخر حضورﷺ کو اس قدرعُجلتِ مقاربت کی کیا ضرورت درپیش تھی جب آپ کی باریاں مقرر تھیں ؟ اور کیا بہ وقت واحد اس قدر کثرتِ مقاربت سے حضورﷺ کی صحت و توانائی پر کچھ اثر نہ پڑتا تھا؟
جواب

یہ حدیث (صحیح ]بخاری میں دو جگہ نقل کی گئی ہے۔ ایک کتاب الغسل میں باب اِذَا جَامَعَ ثُمَّ عَادَ،وَ مَنْ دَارَعَلٰی دَارِ نِسَائِہٖ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ کے تحت۔ دوسرے کتاب النکاح میں بَابُ مَنْ طَافَ علیٰ نِسَائِہٖ فِی غُسْلٍ وَاحِدٍ کے تحت پہلے باب کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنْ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ أَوَكَانَ يُطِيْقُهُ؟ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ({ FR 1904 })
’’نبیﷺ رات اور دن میں اپنی بیویوں کے پاس ایک ہی وقت ہو آتے تھے اور وہ گیارہ بیویاں تھیں ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس سے کہا کہ آپؐ میں اتنی طاقت تھی؟ انس نے جواب دیا ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ حضوؐر کو ۳۰ مردوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔‘‘
دوسرے باب میں سعید بن ابی عروب قتادہ کے حوالے سے حضرت انسؓ کی یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ:
أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ ( { FR 2033 })
’’نبی ﷺ اپنی بیویوں کے پاس ایک ہی رات میں چکر لگا لیتے تھے اور اس زمانے میں آپؐ کی نو بیویاں تھیں ۔‘‘
دونوں حدیثوں سے مقصود صرف یہ بیان کرنا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سے زائد مرتبہ مباشرت کرے تو ہر بار غسل کرنا لازم نہیں ہے۔ بلکہ سب کے لیے ایک ہی غسل کافی ہوسکتا ہے۔ رہا ازواج مطہراتؓ کا نو یا گیارہ ہونا اور حضورؐ کا ان سب کے پاس شب باش ہونے کی طاقت رکھنا تو اس کا ذکر محض ضمناً آگیا ہے۔ اسی لیے امام بخاریؒ نے دونوں جگہ[کتاب الغسل اورکتاب النکاح] ترجمۃ الباب میں غسل واحد لکھا ہے۔
نسائی نے بھی] کتاب الطھارۃ[ بَابُ اِتْیَانِ النِّسَائِ قَبْلَ اِحْدَاثِ الْغُسْلِ میں حضرت انسؓ سے اسی مضمون کی دو روایتیں نقل کی ہیں ۔ ایک میں طَافَ عَلیٰ نِسَائِہٖ فِیْ لَیْلَۃِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ ہے یعنی ایک رات میں آپؐ نے اپنی بیویوں کے پاس چکر لگایا اور صرف ایک مرتبہ غسل فرمایا۔ دوسری حدیث میں ہے کَانَ یَطُوْفُ عَلیٰ نِسَائِہٖ فِیْ غُسْلِ وَاحِدٍ یعنی آپؐ اپنی بیویوں کے پاس ہو آتے تھے اور پھر ایک بار غسل فرماتے تھے۔
ابودائود نے ایک حدیث ] کتاب الطھارۃ[ بَابٌ فِی الجُنُبِ یَعُوْدُ میں نقل کی ہے، جس میں طَافَ ذَاتَ یَوْمِ عَلٰی نِسَائِہٖ فِی غُسْلٍ وَاحِدٍ ہے یعنی ایک روز آپؐ نے اپنی بیویوں کے پاس چکر لگایا اور پھر ایک مرتبہ غسل کیا۔ اس کے بعد حضرت ابورافع سے یہ حدیث نقل کی ہے:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ، وَعِنْدَ هَذِهِ قَالَ: قُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا؟ قَالَ: هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ ({ FR 1911 })
’’ایک روز حضورﷺ نے اپنی بیویوں کے پاس چکر لگایا اور ہر ایک کے ہاں الگ غسل کیا۔ میں نے عرض کیا، یارسول اللہ آپ ایک ہی غسل کیوں نہیں فرماتے۔ حضورﷺ نے فرمایا یہ زیادہ پاکیزہ اور صاف ستھرا طریقہ ہے۔‘‘
پھر ایک حدیث حضرت ابوسعید خدریؓ سے نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :
إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُعَاوِدَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا({ FR 1912 })
’’جو شخص تم میں سے اپنی بیوی کے پاس جائے پھر دوبارہ مقاربت کرنا چاہے تو دونوں مقاربتوں کے درمیان وضو کرے۔‘‘
یہی حدیث ترمذی نے بھی ابواب الطہارۃ[باب ماجائ فی الجنب إذا أراد أن یعود توضا ٔ] میں نقل کی ہے۔ ان تینوں قسم کی حدیثوں کو جمع کرنے سے مسئلہ یہ نکلتا ہے کہ ایک سے زیادہ مرتبہ مباشرت کرنے کی صورت میں زیادہ پاکیزہ طریقہ یہ ہے کہ ہر بار جداگانہ غسل کیا جائے۔ اگر یہ نہ ہوسکے تو کم از کم وضو کرلیا جائے۔ لیکن ایسا واجب نہیں ہے۔ دو یا زائد مقاربتوں کے بعد صرف ایک مرتبہ غسل کرلینے سے بھی شرط طہارت پوری ہو جاتی ہے۔
اب شبہات کو دل میں جگہ دینے سے قبل حسب ِ ذیل امور کو ذہن نشین کرلیجیے:
نبی ﷺ ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے تھے جو تہذیب و تمدن کے ابتدائی درجے میں تھی۔ آپؐ کے سپرد اللہ تعالیٰ نے صرف یہی کام نہیں کیا تھا کہ ان کے خیالات درست کریں بلکہ یہ خدمت بھی آپؐ کے سپرد تھی کہ ان کی زندگی بھی درست کریں ، ان کو انسان بنائیں ، انھیں شائستہ اخلاق، پاکیزہ معاشرت، مہذب تمدن، نیک معاملات اور عمدہ آداب (manners) کی تعلیم دیں ۔ یہ مقصد محض وعظ و تلقین اور قیل و قال سے پورا نہیں ہوسکتا تھا۔۲۳ سال کی مختصر مدت حیات میں ایک پوری قوم کو وحشت کے بہت نیچے مقام سے اٹھا کر تہذیب کے بلند ترین مرتبے پر پہنچا دینا اس طرح ممکن نہ تھا کہ محض چند لگے بندھے اوقات میں ان کو بلا کر کچھ زبانی ہدایات دے دی جاتیں ۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ آپؐ خود اپنی زندگی میں ان کے سامنے انسانیت کا ایک مکمل نمونہ پیش کرتے، اور ان کو پورا موقع دیتے کہ اس نمونے کو دیکھیں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق بنائیں ۔ چنانچہ آپؐ نے ایسا ہی کیا۔
یہ آپﷺ کا انتہائی ایثار تھا کہ آپﷺ نے اپنی زندگی کے ہر شعبے کو قوم کی تعلیم کے لیے پبلک کر دیا۔ اپنی کسی چیزکو بھی پرائیویٹ نہ رکھا۔ حتیٰ کہ ان معاملات کو بھی نہ چھپایا جنھیں دنیا میں کوئی شخص پبلک کے لیے کھولنے پر آمادہ نہیں ہوسکتا۔ آپؐ نے لوگوں کو اذن عام دے دیا کہ آئو اورہر وقت ہر حال میں میری زندگی کے ایک ایک پہلو کو دیکھو اورہر معاملے میں مجھ پر نظر رکھو کہ میں کس طرح عمل کرتا ہوں ۔ ایک پیغمبر کے سوا کوئی دوسرا شخص نہ تو اتنا بڑا ایثار کر سکتا تھا، اور نہ کوئی دوسرا شخص یہ جرأت ہی کر سکتا تھا کہ اپنی پوری زندگی کو یوں منظر عام پر لاکر رکھ دے۔ صرف یہی ایک بات اس حیرت انگیز انسان کی نبوت ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے سوا اور کون آدمی دنیا میں ایسا گزرا ہے یا آج پایا جاتا ہے جو کامل ۲۳ برس تک ہر وقت، ہر حال میں منظر عام پر زندگی بسر کرے۔ سیکڑوں ہزاروں آدمی اس کی ایک ایک حرکت کے تجسس میں لگے ہوئے ہوں ۔ اپنے گھر میں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کے ساتھ برتائو کرتے ہوئے بھی اس کی جانچ پڑتال ہو رہی ہو، اور اتنی گہری تلاش کے بعد نہ صرف یہ کہ اس کے کیرکٹر پر ایک سیاہ چھینٹ تک نظر نہ آئے بلکہ یہ ثابت ہو کہ اس طویل زندگی میں وہ کبھی ایک لمحے کے لیے بھی عدل اور تقویٰ اور سچائی اور پاکیزگی کے معیاری مقام سے نہیں ہٹا، بلکہ یہ ثابت ہو کہ جن لوگوں نے سب سے زیادہ قریب سے اس کو دیکھا وہی سب سے زیادہ اس کے گرویدہ اور معتقد ہوئے۔
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ دراصل یہاں ذکر یہ تھا کہ آں حضرت ﷺ نے عوام کی تعلیم کے لیے اس امر کی عام اجازت دے رکھی تھی کہ رفتار میں ، گفتار میں ، نشست و برخاست میں سونے اور جاگنے میں ، خانگی معاشرت میں ، عبادات اور معاملات میں ، غرض ہر چیز میں لوگ آپ کے عمل کو دیکھیں ، دیکھنے والوں سے سنیں ، جاننے والوں سے پوچھیں ، خود آپ سے دریافت کریں اور اپنی زندگی کو اس مثالی (ideal)زندگی کے نمونے پر ڈھالنے کی کوشش کریں ۔ آپ نے اپنی بیویوں کو بھی عام اجازت دے دی تھی کہ خلوت میں آپ کا جو طرزِ عمل دیکھیں اس سے عورتوں اور مردوں سب کو آگاہ کر دیں ، تاکہ لوگوں کی صرف ظاہری زندگی ہی نہیں ، باطنی اور مخفی زندگی بھی تہذیب و شائستگی اور طہارت و نفاست کے زیور سے آراستہ ہو جائے۔ اسی غرض کے لیے آپﷺ کی بیویاں آپﷺ کی پرائیویٹ زندگی کے ایسے معاملات بھی لوگوں کو بتانے میں دریغ نہ کرتی تھیں جن کو عام طور پر میاں اور بیوی کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور نہ کوئی گوارا کرتا ہے کہ لوگ اس کو جانیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس تعلیم میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر آپﷺ کی بیویوں کو تمام مسلمانوں کے لیے حقیقی مائوں کی سی حیثیت دے دی تھی، اور ان کو افراد امت کے لیے حرام کر دیا تھا تاکہ مائیں اپنے بیٹوں سے کھل کر بات چیت کر سکیں اور ان کے روحانی باپ کی حرکات و سکنات میں سے ہر ہر چیز کو ان کے سامنے تقلید و پیروی کے لیے، حدودِ حلال و حرام کی واقفیت کے لیے، پاک اور ناپاک، شائستہ اور ناشائستہ کی تمیز کے لیے بیان کرتی رہیں ۔ پھر باوجود یہ کہ حضورﷺ طبعاً انتہا درجے کے شرمیلے اور حیادار تھے، آپؐ نے تعلیم کے لیے حیا کے پردے کو اٹھا دیا اور ہر قسم کے معاملات میں اپنی روحانی اولاد کو جن میں بیٹے اور بیٹیاں سب شامل تھے، خود ہدایات دیں ۔ ان کو اجازت دی کہ جو کچھ چاہیں پوچھیں ، اور ان کو موقع دیا کہ آپؐ کے طرز عمل کو دیکھ کر معلوم کریں کہ ایک پاکیزہ اور مہذب اور شائستہ زندگی کیسی ہوتی ہے۔
اسی تعلیم کا ایک شعبہ طہارت جسم و لباس بھی تھا۔ اہل عرب تو خیر وحشی تھے، آج جن قوموں کو تہذیب و تمدن کے آسمان پر ہونے کا دعویٰ ہے، ان کا حال آپ کیا دیکھ رہے ہیں ؟ کھانے کے بعد منہ کی صفائی سے ناواقف۔ رفع حاجت کے بعد جسم کی طہارت سے نابلد۔ کھڑے کھڑے پیشاب کیا اور پتلون کے بٹن لگا لیے۔ کموڈ پر سے اٹھے اور ٹب میں اتر گئے۔ پھر تعلقات مرد و زن میں تو ان کی ناشائستگی اوربے حیائی اور ناپاکی اس حد سے گزری ہوئی ہے کہ شرفا کی صحبت میں اس کا ذکر بھی نہ کیا جاسکے۔ یہ حال جب ان ترقی یافتہ قوموں کا ہے تو اس قوم کا کیا حال ہوگا جو تمدن کے بالکل ابتدائی درجے میں تھی۔ نبیﷺ تشریف لائے تو آپ نے نہ صرف ان کے نفوس کا تزکیہ فرمایا، بلکہ ان کو طہارت جسم و لباس کے طریقے بھی سکھائے۔ ان میں پاکیزگی کا نفیس ذوق پیدا کیا۔ ان میں نجاست اور طہارت کی تمیز پیدا کی۔ زندگی بسر کرنے کے گندے، گھنائونے، ناشائستہ اور بے ہودہ طریقوں کو موقوف کرکے اپنے قول اور عمل سے ان کے مردوں اور ان کی عورتوں کو صفائی، نفاست اور نظافت کے باقاعدہ آداب کا خوگر بنایا۔ اس کے لیے ناگزیر تھا کہ حضورؐ خود اپنی پرائیویٹ زندگی کو ایک حد تک ان کے سامنے بے پردہ کرتے، تاکہ جو کچھ نہ پوچھیں ، یا نہ پوچھ سکیں ، یا جو باتیں آپؐ کوزبان سے بتانے کا موقع نہ ملے، وہ لوگوں کو آپؐ کا طرز زندگی دیکھنے سے معلوم ہو جائیں ۔ اس طرح آپؐ گویا ہمہ تن تعلیم بن گئے تھے۔ نہ صرف زبان سے لوگوں کو تعلیم دیتے تھے بلکہ آپؐ کی ساری زندگی ہر حال میں اپنے گرد و پیش کی آبادی کے لیے تعلیم بنی ہوئی تھی۔
لوگ حدیث کی کتابوں میں جب آپ کی بیویوں اور دوسرے صحابہ و صحابیات کی زبان سے اور خود حضورﷺکی اپنی زبان سے اس قسم کے مسائل پڑھتے ہیں جن میں جنابت اور حیض و نفاس اور ایسے ہی دیگر امورکی نسبت انسان کے طرز عمل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں تو فوراً اعتراض جڑ دیتے ہیں کہ یہ باتیں خلاف حیا ہیں ، لیکن وہ غور کریں تو ان کو معلوم ہو کہ درحقیقت یہ ایک بہت بڑا ایثار تھا جو حضورؐ نے محض اپنی امت کی خاطر گوارا فرمایا۔ جس ذات پاک کی حیا کا یہ عالم تھا کہ اس کی شریک زندگی تک کو کبھی اسے برہنہ دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا، حتّی کہ جس نے کبھی تنہائی میں بھی برہنہ ہونے کو پسند نہ کیا، اس نے محض اپنی امت کو صفائی اور شائستگی کی تعلیم دینے کے لیے اپنی بیویوں کو اجازت دے دی کہ اس کی پرائیویٹ زندگی کے مخفی سے مخفی واقعات تک کو پبلک کر دیں ، اور اپنے خدام خاص کو موقع دیا کہ جہاں تک اندرونی حالات سے واقف ہوسکتے ہوں واقف ہوں اور لوگوں تک ان حالات کو پہنچائیں ، کیا یہ کوئی معمولی ایثار تھا؟ اور یہ اسی ایثار کا نتیجہ ہے کہ نہ صرف اہل عرب بلکہ دنیا کے کروڑ ہا کروڑ مسلمانوں کی پرائیویٹ زندگی صفائی جسم اور طہارت لباس اور پاکیزگیٔ اطوار اور صنفی معاملات میں شائستگی و نظافت کے ایک عام ضابطے کی پابند ہوگئی۔ ورنہ اگر ان معاملات کو محض شخصی ذوق اور تمیز پر چھوڑ دیا جاتا تو ہمارے اکثر افراد کا حال اپنی زندگی کے مخفی شعبوں میں جانوروں سے ملتا جلتا ہوتا کیونکہ ان شعبوں کے متعلق انسان کی تعلیم و تربیت کا کوئی انتظام آج بھی دنیا میں کہیں نہیں ہے۔
یہ تو ان شبہات کا جواب ہے جو لائق مستفسر نے حضورﷺ کی پرائیویٹ زندگی کے اسرار سے حضرت انسؓ کی واقفیت پر ظاہر کیے ہیں ۔ اب ہم سوال کے دوسرے حصے کی طرف توجہ کرتے ہیں ۔
جو حدیثیں ہم نے ابتداء میں نقل کی ہیں ان میں کان یطوف، یا کان ید ور، یا طاف کے الفاظ آئے ہیں ۔ ان سب الفاظ کا لفظی ترجمہ ’’چکر لگانا‘‘ یا ’’پھرنا‘‘ ہے، اور ان سے مطلب یہ نکلتا ہے کہ کبھی کبھی آں حضرت ﷺ ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ ویسے آپ کا عام معمول تو یہ تھا کہ ایک ایک رات ایک ایک بیوی کے پاس بسر فرماتے، مگر احیاناً ایسا بھی ہو جایا کرتا تھا کہ ایک ہی رات میں سب کے ہاں ہو آتے تھے۔ راوی جس بات کا عینی شاہد ہے وہ صرف یہی ہے کہ آپؐ ہر ایک کے ہاں گئے۔ سب بیویوں کے ہاں جانے سے یہ لازم نہیں آجاتا کہ لامحالہ سب کے ساتھ ہم بستری بھی کی جائے۔ یہ راوی کا اپنا قیاس ہے کہ جب تشریف لے گئے تو ہر ایک کے ساتھ مباشرت بھی کی ہوگی۔ راوی حضرت انسؓ ہیں ، اور ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے ان کا ایسا قیاس کرنا کچھ زیادہ قابل تعجب نہیں معلوم ہوتا۔ وہ حضورﷺکی ملازمت میں داخل ہوئے ہیں تو ان کی عمر صرف دس سال کی تھی اور آپؐ کی وفات کے وقت وہ بیس سال کے تھے۔ اتنے کم عمر نوجوان کا قیاس ایسے معاملات میں چنداں لائق اعتبار نہیں ہوسکتا۔ نوجوان لڑکے جب کبھی شوہر کو بیوی کے پاس جاتے دیکھتے ہیں تو ان کا ذہن خواہ مخواہ مباشرت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ وہ اس بات کا اندازہ نہیں کرسکتے کہ ایک سن رسیدہ آدمی کا تعلق اپنی بیوی کے ساتھ محض مباشرت ہی کا تعلق نہیں ہوتا۔
پھر یہ امر قابل لحاظ ہے کہ حضورﷺ کی ازواج مطہرات میں سے ایک، یعنی زینب بنت ِ خزیمہؓ ۳ھ میں حضورؐ سے بیاہی گئیں اور صرف دو تین مہینے زندہ رہ کر انتقال فرما گئیں ۔ دوسری حضرت سودہؓ ضعیف العمر تھیں اور اپنی باری حضرت عائشہؓ کو دے چکی تھیں ۔ ان دو کو الگ کرنے کے بعد ۴ ھ میں حضورؐ کی صرف تین بیویاں تھیں ۔ ۵ھ میں ایک کا اضافہ ہوا۔ ۶ھ میں ایک کا اور اضافہ ہوا۔ ۷ ھ میں مزید تین ازواج حرم نبوی میں داخل ہوئیں ۔ اس طرح آخر عمر میں حضورؐ کی صرف آٹھ بیویاں ایسی تھیں جن کے ساتھ آپؐ کے شب باش ہونے کا گمان کیا جاسکتا ہے۔ اس سے بھی اس قیاس کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے جو مجملاً نو یا گیارہ ازواج کے ساتھ ہم بستر ہونے کے متعلق قائم کیا گیا ہے۔
بدرجۂ آخر یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضورﷺ نے اپنی زندگی کے آخری تین برسوں میں کسی وقت آٹھ بیویوں کے ساتھ ایک ہی رات شب باشی کی۔ اگر یہ واقعہ بھی ہو تو ایک ایسے تندرست اور صحیح القویٰ انسان کے لیے یہ امر کچھ بھی فوق العادۃ نہیں جس نے تمام عمر تقویٰ اور پرہیزگاری کی زندگی بسر کی ہو اوراپنے جسم کی قوتوں کو خیالاتِ فاسدہ اور افعالِ قبیحہ میں کبھی ضائع نہ کیا ہو۔ یہ امر تعجب انگیز ہوسکتا ہے تو ان کے لیے جنھوں نے جوانی میں اپنی قوتیں ضائع کیں اور بڑھاپا آنے سے پہلے بوڑھے ہوگئے۔ حضورﷺ ایک کامل انسان تھے۔ تمام قوتیں آپؐ کے اندر غایت درجے کے اعتدال پر تھیں ۔ ایک اعلیٰ درجے کا دماغ رکھنے والے انسان میں رُجُولیّت کی قوت کا بھی کمال درجے پر ہونا ایک طبی حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ پھر اس طاقت کی حفاظت آپؐ نے ایسی کی کہ ساری جوانی صرف ایک بیوی کے ساتھ گزار دی، اور کبھی آپؐ کی پرہیزگاری میں ذرّہ برابر فرق نہ آیا۔ پچاس کے لگ بھگ عمر میں آپؐ اللہ کے حکم سے اپنے مخالفین کو چیلنج دیتے ہیں کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا (یونس :۱۶) ’’میں تمھارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں ۔‘‘ کسی نے میرے کیرکٹر میں کوئی خرابی دیکھی ہو تو بتائے۔ مگر وہ حضورﷺ کی جان کے دشمن اور خون کے پیاسے تھے، ان میں سے بھی کوئی یہ کہنے کی جرأت نہ کرسکا کہ محمد فلاں موقع پر تم سے فلاں کمزوری سرزد ہوئی تھی۔ پس ایک طرف کمالِ رجولیت کے ساتھ اس پرہیزگاری کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپؐ کا آخر عمر میں اتنی عورتوں کے ساتھ شب باشی پر قادر ہونا کوئی فوق العادۃ بات نہیں ہے، اور دوسری طرف اس قدرت کے باوجود عہدِ شباب میں آپﷺ کے کمالِ تقویٰ کو دیکھ کر ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ حضورﷺ کس قدر ضابط تھے اور اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کی کتنی زبردست طاقت آپؐ نے پائی تھی۔
رہی وہ بات جو حضرت انسؓ نے فرمائی ہے کہ آپﷺ کو تیس یا چالیس مردوں کی قوت عطا کی گئی تھی، تو وہ نہ حضورﷺ کا قول ہے، نہ کوئی مستند بات۔ حضرت انسؓ خود فرماتے ہیں کہ ہم آپس میں ایسا کہا کرتے تھے، ظاہر ہے کہ وہ اس وقت نوجوان تھے اور اپنے ہم عمر دوستوں ہی میں اس قسم کی گفتگو کرتے ہوں گے۔ عنفوان شباب میں عموماً لوگ رجولیت کی زیادتی کو خاص اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ پھر حضرت انسؓ تو اس زمانے کی عربی سوسائٹی کے ایک نوجوان تھے جس میں رجولیت کی زیادتی انسانیت کا ایک قابل فخر جوہر سمجھی جاتی تھی۔ انھوں نے اگر اپنے محبوب آقا میں جس کی غیر معمولی شخصیت سے وہ بے حد مرعوب بھی تھے، اس فخر کے قابل چیز کا ادعا کیا تو یہ بالکل ایک امر فطری ہے۔ بڑے آدمیوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے کہ جو لوگ ان کی غیر معمولی شخصیتوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں وہ ان کی ذات میں فوق البشر طاقتوں کے معتقد ہو جاتے ہیں ۔ مگر ایسے معقتدات اس قابل نہیں ہوتے کہ ان کو حجت بنا کر ان پر استدلال کی عمارتیں کھڑی کی جائیں ۔
حضرت انسؓ نے تو صرف اسی قدر کہا کہ حضورﷺ کو ۳۰ یا۴۰ مردوں کی طاقت عطا کی گئی تھی۔ اس سے کہیں بڑھ کر بعض دوسری روایتوں میں جن کو ابو نُعیم اور احمد اور نسائی اور حاکم نے نقل کیا ہے، یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ چالیس مرد جن کی قوت حضورﷺ کو عنایت کی گئی تھی دنیا کے نہیں بلکہ جنت کے مرد ہیں ، اور جنت کے ہر مرد کو دنیا کے سو مردوں کے برابر قوت حاصل ہوگی۔ اس طرح چالیس کو سو سے ضرب دے کر حساب لگایا گیا کہ حضوؐر میں چار ہزار مردوں کی قوت تھی۔({ FR 2161 }) یہ سب باتیں خوش عقیدگی پر مبنی ہیں ، اور ایسے لوگوں نے کہی ہیں جو آں حضرت علیہ الصلاۃ و السلام کی عظمت سے کمال درجہ متاثر ہو کر آپؐ کے اندر ایسی تمام فوق البشری طاقتوں کا اعتقاد رکھتے تھے جن کو نیک نیتی کے ساتھ وہ فخر کے قابل سمجھتے تھے۔ انھی باتوں کو ہمارے زمانے کے ایک فاضل بزرگ نے، جن کے علم و فضل اور تقویٰ کا پورا پورا احترام ہمارے دل میں ہے، اپنے ایک مضمون میں نقل کر دیا، اور استدلال کی عمارت اس طرح قائم کی کہ حضور نبی کریمﷺ ۴ ہزار مردوں کی طاقت رکھتے تھے، اور اس طرح ۱۶ہزار بیویاں رکھنے کے مستحق تھے، مگر آپ نے صرف گیارہ بیویوں پر قناعت فرمائی۔ یہ بات اگرچہ حسن عقیدت کے رنگ میں کہی گئی تھی، لیکن ایسی بات خواہ کسی کے قلم سے اور کسی نیت سے نکلے، بہرحال ہم یہ کہنے سے باز نہیں رہ سکتے کہ اللہ کے نبی کی قوت باہ کا حساب لگانا مذاق سلیم پر بھی بار ہے، کجا کہ اس کو دشمنانِ اسلام اور مشککین اور مذبذبین کے مقابلے میں حجت کے طور پر لایا جائے اور ان کے سامنے محمدﷺ کو کنھیا جی اور ہندو دیوتائوں کے رنگ میں پیش کرکے یہ امید کی جائے کہ اس قسم کی باتوں سے ان کے دلوں میں نورِ ایمان پیدا ہوگا۔ آں حضرت ﷺ کی کثرت ازواج پر مخالفین کے اعتراضات کی تردید بہت سے قوی دلائل سے ہوسکتی تھی۔ ان سب کو چھوڑ کر یہ طرزِ استدلال یقیناً افسوس ناک ہے۔ خصوصاً ایسے زمانے میں جبکہ علما کے دشمن ذرا ذرا سی لغزشوں پر بات کا بتنگڑ بناتے ہیں اور علما سے گزر کر خود علوم دینی پر حملے کرنے لگتے ہیں ۔ (ترجمان القرآن، فروری ۱۹۳۶ء)