رشوت اور بخشش

موجودہ حالات اور موجودہ ماحول میں کیا مسلمانوں کے لیے کسی صورت میں بھی رشوت جائز ہوسکتی ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے رشوت کی ایک جامع تعریف بھی بیان کردیجیے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس قسم کے معاملات رشوت کی تعریف میں آتے ہیں ؟
جواب

رشوت کی تعریف یہ ہے کہ’’جو شخص کسی خدمت کا معاوضہ پاتا ہو، وہ اسی خدمت کے سلسلے میں ان لوگوں میں سے کسی نوعیت کا فائدہ حاصل کرے جن کے لیے یا جن کے ساتھ اس خدمت سے تعلق رکھنے والے معاملات انجام دینے کے لیے وہ مامور ہو،قطعِ نظر اس کے کہ وہ لوگ برضا ورغبت اسے وہ فائدہ پہنچائیں یا مجبوراً۔ جو عہدہ دار یا سرکاری ملازمین تحفے تحائف کو اس تعریف سے خارج ٹھیرانے کی کوشش کرتے ہیں ،وہ غلطی پر ہیں ۔ ہر وہ تحفہ ناجائز ہے جو کسی شخص کو ہرگز نہ ملتااگر وہ اس منصب پر نہ ہوتا۔البتہ جو تحفے آدمی کو خالص شخصی روابط کی بنا پر ملیں ،خواہ وہ اس منصب پر ہو یا نہ ہو، وہ بلاشبہہ جائز ہیں ۔
موجودہ حالات ہوں یا کسی اور قسم کے حالات، رشوت لینا تو بہرحال حرام ہے۔ البتہ رشوت دینا صرف اس صورت میں بربناے اضطرار جائز ہوسکتا ہے جب کہ کسی شخص کو کسی ظالم سے اپنا جائز حق حاصل نہ ہورہا ہو اور اس حق کو چھوڑ دینا اس کو ناقابل ِ برداشت نقصان پہنچاتا ہو اور اوپر کوئی بااختیار حاکم بھی ایسا نہ ہو جس سے شکایت کرکے اپنا حق وصول کرنا ممکن ہو۔
(ترجمان القرآن،جولائی۱۹۵۲ء)


Leave a Comment