رفع یدین اور آمین بالجہر

براے مہربانی رفع یدین اور آمین بالجہرکے بارے میں اپنی تحقیق سے آگاہ کیجیے۔
جواب
’’رفع یدین‘‘ اور’’ آمین بالجہر‘‘] ... [ کے فعل اور ترک دونوں کی تائید میں دلائل مجھ کو تقریباً مساوی الوزن نظر آتے ہیں ۔اس لیے جو ان افعال کو کرتا ہے وہ بھی حدیث کی خلاف ورزی نہیں کررہا ہے، اور جو انھیں ترک کرتا ہے اسے بھی مخالفتِ حدیث کا الزام نہیں دیا جاسکتا۔ مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ صاحب شریعت ؈ نے مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے عمل کیا ہے، اور اسی طرح صحابہ کرامؓ نے بھی۔ اب ایک شخص جس طریقے کی بھی پیروی کرتا ہے وہ صاحبِ شریعتؐ ہی کا مطیع ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اسے غیریت اورنفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے، یا اسے اپنے ہی پسندیدہ طریقے کی طرف تشدّد سے کھینچا جائے۔ ہاتھ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا، اور آمین زور سے کہنا یا آہستہ کہنا کوئی ایسی اہمیت نہیں رکھتا کہ ایک کا التزام اور دوسرے کے ترک کا اہتمام کیا جائے۔ (ترجمان القرآن ، جولائی ،اکتوبر ۱۹۴۴ء)

Leave a Comment