زمانۂ عدّت میں ملازمت

میں ایک مسئلہ میں قرآن و حدیث اور دورِ حاضر کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کا فتویٰ معلوم کرنا چاہتی ہوں ۔ میں ایک بیوہ ہوں ، میرے شوہر ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ اچانک ان کا راستہ ہی میں انتقال ہوگیا۔ میرے دو بچے ہیں جن میں سے ایک کی عمر تقریباً سولہ سال ہے۔ ایک بچی کی عمر ۹ سال ہے۔ بچی کی پیدائش کے بعد بیماری کی وجہ سے مجھے بچہ دانی کا آپریشن کرانا پڑا۔ اس پر آٹھ سال گزر گئے۔ اس دوران مجھے کبھی حمل نہیں ہوا۔ ۲- میں ایک غیر مستقل ملازم ہوں اور میرا تقرر صرف تین تین ماہ کے لیے ہوتا ہے۔ میرے اوپر گھر کی تمام ذمے داری ہے۔ میرے یا میرے شوہر کے خاندان میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو میرا اور میرے بچوں کا بوجھ برداشت کرسکے۔ میرے پاس کوئی منقولہ یا غیر منقولہ جائداد بھی نہیں ہے جس سے گزر بسر ہوسکے۔ صرف میری تنخواہ سے گزر ہوتی ہے ـــــ اور ڈیوٹی پر نہ جانے کی صورت میں میری ملازمت برقرار نہ رہ سکے گی۔ ان حالات میں میرے لیے عدت گزارنے کا کیا حکم ہے؟ دوبارہ عرض کردوں کہ میں ایک غیر مستقل ملازم ہوں ۔ ڈیوٹی پر نہ جانے کی صورت میں نوکری ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی۔
جواب
آپ نے جو حالات بیان کیے ہیں ، ان کے پیشِ نظر آپ زمانۂ عدت میں ملازمت کے لیے دفتر جاسکتی ہیں ، البتہ اپنی آمد و رفت صرف دفتر تک محدود رکھیں اور رات لازماً اپنے مکان ہی پر گزاریں ۔ کسی اور عزیز وغیرہ کے مکان پر نہیں ۔۱؎ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے بچوں کو صبر جمیل سے نوازے اور آپ کی مشکلات کو دور فرمائے۔

Leave a Comment