زکاۃکی شرح

جن مختلف سامانوں اور چیزوں پر زکاۃ واجب ہوتی ہے ان پر زکاۃ کس شرح سے لی جائے؟
جواب
جن مختلف سامانوں پر زکاۃ واجب ہے،ان کی شرح حسب ذیل ہے: زرعی پیدا وار=۱۰فی صدی جب کہ وہ بارانی زمینوں سے حاصل ہو۔ زرعی پیداوار = ۵فی صدی جب کہ وہ مصنوعی آب پاشی سے حاصل ہو۔ نقدی اور سونا چاندی= ڈھائی فی صدی۔ اموال تجارت= ڈھائی فی صدی۔ مواشی= جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ ] سوال نمبر۱۳۴ [ اس کا تفصیلی نقشہ سیرۃالنبیؐ مصنفہ سیّد سلیمان ندوی جلد۵میں ملاحظہ ہو۔ معادن= ڈھائی فی صدی۔ رکاز = ۲۰فی صدی کارخانوں کے اموال= ڈھائی فی صدی۔ ( ترجمان القرآن،نومبر ۱۹۵۰ء )

Leave a Comment