ساس بہو کے جھگڑے سے بچنے کی صورت

آج کل ساس بہو کے جھگڑوں کی شدت نے شریعت و قانون دونوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ ان سے بچنے کے لیے کیا مناسب صورت اختیار کی جائے؟
جواب

اس میں شک نہیں کہ ہماری سوسائٹی میں ساس اور بہو کے جھگڑے ضرب المثل بن چکے ہیں ۔ شاید بہت کم گھر اس سے محفوظ ہوں گے۔ ساس یہ سمجھتی ہے کہ لڑکا اس کا ہے اور اس کی تمام تر محبت اور توجہ اسی کی طرف ہونی چاہیے۔ جب وہ یہ دیکھتی ہے کہ بہو اس کی محبت میں شریک ہو رہی ہے اور لڑکا اس کی طرف توجہ کر رہا ہے تو جھگڑے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ ساس کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ بہو اپنے کچھ حقوق لے کر آتی ہے اور ان حقوق کا ادا کرنا اس کے لڑکے کے لیے ضروری ہے۔ انھیں وہ نظر انداز نہیں کرسکتا اور یہ بھی غیر فطری بات ہے کہ کوئی عورت اپنے نوجوان لڑکے سے اس کی توقع رکھے کہ وہ اپنی بیوی سے محبت نہیں کرے گا یا تعلق نہیں رکھے گا۔ اس لیے اس واقعہ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اب اس کے لڑکے کی محبت اس کے لیے اس طرح خالص نہیں رہ سکتی جیسے لڑکے کی شادی سے پہلے تھی۔ اگر یہ احساس اس کے اندر ہو تو بہو کے ساتھ اس کے رویے میں تبدیلی آئے گی۔ دوسری طرف بہو کو بھی یہ محسوس کرنا چاہیے کہ جس طرح اس کے ماں باپ ہیں اسی طرح اس کے شوہر کے بھی ماں باپ ہیں ۔ اس کا ان سے محبت کرنا، ان کی خدمت کرنا اور ان کے حقوق پہچاننا اس کے لیے ضروری ہے۔ وہ انھیں نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ شوہر سے محبت کا تقاضا ہے کہ اس کی ماں کو اپنی ماں سمجھے اور اس کی خدمت کو اپنے لیے باعث ثواب سمجھے۔ اگر یہ احساس بہو میں پیدا ہوجائے تو خوش دامن کے ساتھ تعلقات میں جو کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے اس میں یقینا کمی آسکتی ہے۔