سب اہلِ محلہ کا نمازِ تراویح کو چھوڑنا

علماے کرام بالعموم یہ کہتے ہیں کہ تراویح اوّل وقت میں (عشا کی نماز کے بعد متصل) پڑھنا افضل ہے اور تراویح کی جماعت سنت مؤکدہ کفایہ ہے۔ یعنی اگر کسی محلے میں تراویح باجماعت نہ ادا کی جائے توا ہل محلہ گناہ گار ہوں گے، اور دو آدمیوں نے بھی مل کر مسجد میں تراویح پڑھ لی تو سب کے ذمے سے ترک جماعت کا گناہ ساقط ہوجائے گا۔کیا یہ صحیح ہے؟اگر یہ صحیح ہے تو حضرت ابو بکر صدیق ؓکے زمانے میں کیوں ایسا نہیں ہوا؟اور اُس زمانے کے مسلمانوں کے لیے کیا حکم ہوگا؟ کیا وہ سب تراویح باجماعت نہ پڑھنے کی وجہ سے گناہ گار تھے؟
جواب
علما جس بنا پر یہ کہتے ہیں کہ جس بستی یا محلے میں سرے سے نماز تراویح باجماعت ادا ہی نہ کی جائے، اس کے سب لوگ گناہ گار ہیں ،وہ یہ ہے کہ تراویح ایک سنت الاسلام ہے جو عہد خلافت راشدہ سے تمام اُمت میں جاری ہے۔ ایسے ایک اسلامی طریقے کو چھوڑ دینا اور بستی کے سارے ہی مسلمانوں کا مل کر چھوڑ دینا، دین سے ایک عام بے پروائی کی علامت ہے، جس کو گوارا کرلیا جائے تو رفتہ رفتہ وہاں سے تمام اسلامی طریقوں کے مٹ جانے کا اندیشہ ہے۔اس پر جو معارضہ آپ نے کیا ہے،اُس کاجواب اوپر سوال نمبر ] ۱۸۴ [ میں گزر چکا ہے۔ (ترجمان القرآن، اپریل،مئی۱۹۵۲ء)

Leave a Comment