سرکاری ملازمین کا سیاست میں حصہ لینا

آپ کا یہ خیال کہ ملازمین حکومت کو سیاست میں دخل اندازنہ ہونا چاہیے،بالکل مبہم اور مجمل ہے۔کیا آپ بھی سیاسیات ومذہب کی مصنوعی تقسیم کے قائل ہیں ؟
جواب
ملازمین حکومت کے سیاسیات میں دخل انداز ہونے کی جو مخالفت میں نے کی ہے،اس کی کے وجوہ ودلائل بھی میں نے بیان کردیے ہیں ۔ آپ نے ان دلائل پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہ کی اور ایسے پہلوئوں سے اعتراضات شروع کردیے جو اصل معاملے سے غیر متعلق ہیں ۔ملازمین حکومت کی ایک حیثیت ذاتی اور دوسری حیثیت ملازم ہونے کی ہے۔ ذاتی حیثیت میں کوئی بھی نہیں کہتا کہ وہ سیاسیات سے’’ علیحدہ‘‘رہیں ۔اسی وجہ سے تو ان کو بھی عام لوگوں کی طرح ووٹ کا حق حاصل ہے۔ لیکن ملازم حکومت ہونے کی حیثیت سے ان کا سیاسیات میں دخل اندازہونا اور ان سرکاری اختیارات کو،جو انتظام ملکی کے لیے انھیں دیے گئے ہیں ،سیاسی نظریوں اور پارٹیوں میں سے کسی کے حق میں اور کسی کے خلاف استعمال کرنا،اصولاً بھی غلط ہے اور عملاً بھی ملک کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ کیا آپ اسے صحیح سمجھتے ہیں کہ پولیس اور فوج اور سول سیکرٹریٹ کے لوگ اپنی جتھہ بندی کرکے خود اپنا ایک نظریہ قائم کرلیں اور یہ فیصلہ کر بیٹھیں کہ وہ خود ملک پر قبضہ کرکے اپنے نظریے کو زبردستی نافذ کریں گے،یا کوئی ایسی پارٹی اگر انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آجائے جو ان کے نظریے سے مختلف نظریہ رکھتی ہوتو اس کی حکومت نہ چلنے دیں گے۔ (ترجمان القرآن ،فروری ۱۹۵۶ء)

Leave a Comment