سرکار ی نرخ پر خرید کر چور بازار میں بیچنا

ایک تاجر اپنے کاروبار میں پوری طرح راست باز اور دیانت دار ہے اور احکامِ شریعت کی پابندی کرتا ہے۔سامانِ تجارت اسے کنٹرول ریٹ پر حاصل ہوتا ہے،لیکن بازار میں چور بازاری کی وجہ سے بعض اشیا کی قیمتیں بہت چڑھی ہوئی ہیں ،اس صورت میں کیا وہ مروّجہ نرخ پر اپنا مال فروخت کرنے کا حق رکھتا ہے؟
جواب
کنٹرول ریٹ سے خریدا ہوا مال کنٹرول ریٹ پر ہی بیچنا چاہیے۔ کنٹرو ل ریٹ پر خرید کر بلیک مارکیٹ میں مال فروخت کرنا تو ان لوگوں کا کام ہے جن کے اندر نفع اندوزی کی حرص کے سوا اور کوئی شریفانہ جذبہ باقی نہیں رہا۔ البتہ اضطراراً وہ چھوٹے تاجر ایک حد تک بلیک مارکیٹنگ کرنے کی گنجائش رکھتے ہیں جنھیں مالِ تجارت ملتا ہی بلیک مارکیٹ سے ہو اور کنٹرول ریٹ پر حاصل ہونا ناممکن ہوجائے،نیزانھیں کوئی دوسرا مشغلہ یا پیشہ اختیار کرنے کی بھی استطاعت نہ ہو۔ (ترجمان القرآن، اگست۱۹۴۶ء)

Leave a Comment