سنت نماز اور شرک

اﷲ کی جو عبادت ہم بجا لاتے ہیں ،اس کا نام الصلاۃ یعنی نماز ہے۔پھر یہ فرض ،سنت، وتر،نفل کیا چیز ہیں اور یہ پڑھ کر ہم کس کی عبادت کرتے ہیں ۔جاتے تو ہم ہیں اﷲ کی عبادت بجا لانے اور پڑھنے لگتے ہیں نماز سنت،جس کی نیت بھی یوں باندھتے ہیں : دو رکعت نماز سنت،سنت رسول اﷲ ﷺ کی، وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس طرح بھی حضورﷺ کااﷲ کی عبادت میں شریک ہوجانا ثابت نہیں ہوتا؟
جواب

فرض نماز کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عبادت جو اس کے عائد کردہ فریضۂ صلاۃ کو ادا کرنے کے لیے کم سے کم لازم ہے۔جس کے بغیر حکم کی تعمیل سے ہم قاصر رہ جائیں گے۔ سنت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عبادت جو فرض کے علاوہ نبیﷺ ہمیشہ ادا کیا کرتے تھے اور جس کی آپؐ نے ہمیں تاکید کی ہے۔ نفل سے مراد ہے خدا کی وہ عبادت جو ہم اپنی خوشی سے کرتے ہیں ۔جسے ہم پر نہ لازم کیا گیا ہے اور نہ جس کی تاکید کی گئی ہے۔ اب فرمایئے کہ اس میں شرک کہاں سے آگیا؟’’سنت رسول اللّٰہ کی ‘‘کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ رسول اﷲ ﷺکی نماز پڑھی جارہی ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ نماز ہے جو رسول اﷲ ﷺ فرض سے زائد پڑھا کرتے تھے اور آپﷺ کے اتباع میں ہم بھی پڑھتے ہیں ۔
(ترجمان القرآن،فروری ۱۹۶۱ء)