سود

زید پر حکومت کی طرف سے ناجائز ٹیکس واجب الادا ہیں ۔ وہ انھیں مجبوراًادا کرتا ہے۔زید نے اس نقصان کی تلافی کا یہ حیلہ سوچا ہے کہ اس کا جو روپیا بنک یا ڈاک خانے میں ہے،اس پر وہ سود وصول کرلے۔کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟
جواب
اس طرح کے بہانوں سے سود لینا جائز نہیں ہے،بلکہ دہرا گناہ ہے۔اگر بالفرض حکومت کا کوئی ٹیکس ناجائز نوعیت کا ہے اور آپ اسے بکراہت دیتے ہیں تو یہ ایک ایسا ظلم ہے جو حکومت آپ پر کررہی ہے۔لیکن جو سود آپ حکومت کے بنک یا ڈاک خانے سے وصول کریں گے وہ حکومت اپنی جیب سے نہیں لاتی،بلکہ لوگوں سے ٹیکس یا سودکی شکل میں حاصل کرتی ہے اور کچھ اپنے پاس رکھ کر بقیہ ان لوگوں کو دیتی ہے جو اس کے پاس اپنا سرمایہ جمع کراتے ہیں ۔ یہ سود اس سے وصول کرکے آپ نے حکومت کو کیا سزا دی؟ یہ سزا تو آپ نے دوسرے شہریوں کو دی ہے۔یہ بالکل ایسا ہے جیسے ایک شخص نے اگر آپ کا مال چرایا،آپ سزا دینے کے لیے نکلے، اور اس کے گھر میں دوسروں کا جو مال رکھا ہے،اس میں سے کچھ نکال لائے۔ (ترجمان القرآن، مئی،جون۱۹۵۳ء)

Leave a Comment