سیّد مودودی ؒ کامعصوم عن الخطا نہ ہونا

کیا آپ معصوم عن الخطا ہیں ؟ اگر نہیں تو کیا آپ کے اجتہادات پر تنقید جائز ہے؟اگر آپ تنقید سے بالاتر نہیں تو تنقید کرنے والے علما پر کیوں طعن کیا جاتا ہے؟اگر اسلام کی تعلیمات کی تعبیر کا حق صرف جماعت کے علما کے لیے مخصوص کردیا جائے تو اسلامی علوم کو ترقی کے بجاے رکاوٹ نہ ہوگی؟آمرانہ رجحانات ترقی پذیر نہ ہوں گے؟کیا موجودہ اختلاف جب کہ دیانت داری پر مبنی ہو، اِخْتِلافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ({ FR 1084 })نہ ہوگا؟انھی اختلافات میں مختلف ذہنی صلاحیتوں کے جواہر منظر عام پر نہ آجائیں گے جن سے اُمت کو فائدہ پہنچتا رہا ہے اور رہے گا؟
جواب
میں نے کبھی نہ اپنے آپ کو معصوم عن الخطا سمجھا، نہ کہا۔ میں نہ صرف اپنے اوپر اور اپنی ہر بات پر تنقید کو جائزسمجھتا ہوں بلکہ خود اس کی دعوت دیتا ہوں اور اس کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔آپ میری ہی نہیں ، جماعت اسلامی کے کسی شخص کی بھی کسی عبارت کا ایک لفظ اس الزام کے ثبوت میں پیش نہیں کرسکتے کہ ہم اسلام کی تعبیر کا حق صرف اپنے لیے مخصو ص کرتے ہیں ، یا اپنے آپ کو تنقید سے بالاتر سمجھتے ہیں ۔لیکن اگر آپ برا نہ مانیں تو میں صاف کہوں کہ آپ نے اس ] سوال[ میں جو کچھ لکھا ہے،وہ سراسر تعصب کی بِنا پر لکھا ہے۔ جو حضرات میرے اوپر طرح طرح کے بہتان لگاتے ہیں ،میری عبارتوں کو توڑ مروڑ کر ان کو غلط معنی پہناتے ہیں ، اور بدترین قسم کے جھوٹے الزامات لگا کر نہ صرف تضلیل وتکفیر کے فتوے جڑتے ہیں ،بلکہ جگہ جگہ تقریروں اور اشتہاروں کے ذریعے سے میرے خلاف عوا م کو بھڑکاتے بھی پھرتے ہیں ،وہ تو آپ کے نزدیک صرف ’’تنقید ‘‘ کرنے والے ہیں اور ان کا یہ فعل کسی درجے میں بھی آپ کو قابل اعتراض یا قابل شکایت نظر نہیں آتا۔البتہ ہزاروں زیادیتوں پر صبر کرنے کے بعد اگر کبھی جماعت اسلامی کے کسی شخص کی زبان وقلم سے کوئی ایک لفظ ان کی تردید میں نکل جاتا ہے تو وہ آپ کو طعن نظر آتا ہے اور اس کی آپ شکایت فرماتے ہیں ۔ ( ترجمان القرآن، مئی ۱۹۵۶ء)

Leave a Comment