شادی بیاہ میں کفاء ت کا لحاظ

ترجمان القرآن ستمبر ۱۹۵۱ئ میں آپ نے مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی کے جواب میں ایک جگہ ایسے تسامح سے کام لیا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔مولانا موصوف نے آپ سے دریافت کیا تھا کہ’’ کیا ایک سیّد ہندستان میں رہنے کی وجہ سے سیّد نہ رہے گا بلکہ جلاہا بن جائے گا؟‘‘میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آپ نے بھی جواب میں دبی زبان سے اس غیر اسلامی امتیاز کو یہ کہہ کر تسلیم کرلیا کہ ’’دارالکفر کے ایک سیّد صاحب، دارالاسلام کی ایک سیّدانی کے باعتبار نسب کفو ہی سہی۔‘‘آپ کے الفاظ مبہم ہیں ۔کیا آپ بھی مسئلۂ کفو کو اسلام میں جائزسمجھتے ہیں ؟اگر جواب اثبات میں ہے تو آپ قرآن وحدیث سے استشہاد پیش فرما کر میرا اطمینان فرمائیں ۔سمجھ میں نہیں آیا کہ دنیا کے کام کاج اور پیشوں کو انسانیت کی اونچ نیچ میں کیوں دخل ہو؟بنی نوع انسان سب آدم ؈ کی اولاد ہیں ۔کیا حضرت دائود؈ نے اگر لوہے کا کام کیا ہے تو وہ لوہار ٹھیریں گے؟
جواب
آپ نے کفاء ت کے مسئلے پر جو اعتراض کیا ہے،اُس سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔طرزِ تعبیر میں اختلاف ہوسکتا ہے،لیکن نفس مسئلۂ کفاء ت تو عقل اور نقل دونوں سے ہے۔تفصیلات سے قطع نظر، بجاے خود نکاح میں اس کے معتبر ہونے پر ائمۂ اربعہ کا اتفاق ہے۔ اس مسئلے کا ماخذ متعدداحادیث ہیں ۔ مثلاً: لَا تُنْكِحُوا النِّسَاءَ إِلَّا الْأَكْفَاءَ ({ FR 1953 }) ’’عورتوں کی شادیاں نہ کرو مگر ان لوگوں کے ساتھ جو کفو ہوں ۔‘‘ يَا عَلِيُّ، ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا: الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفُؤًا ({ FR 1954 }) ’’اے علیؓ! تین کام ہیں جن کو ٹالنا نہ چاہیے:ایک، نماز، جب کہ اس کا وقت آجائے۔ دوسرے، جنازہ، جب کہ تیار ہوجائے۔ تیسرے، بن بیاہی عورت کا نکاح، جب کہ اس کے لیے کفو مل جائے۔‘‘ تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ، وَأَنْكِحُوا الْأَكْفَاءَ({ FR 1955 }) ’’اپنی نسل پیدا کرنے کے لیے اچھی عورتیں تلاش کرو،اور اپنی عورتوں کے نکاح ایسے لوگوں سے کرو جو ان کے کفو ہوں ۔‘‘ یہ حدیث حضرت عائشہ، انس، عمر بن الخطاب ؇ سے متعدد طریقوں سے مروی ہے۔ امام محمدؒ نے ’’کتاب الآثار‘‘میں حضرت عمرؓکا یہ قول بھی نقل کیا ہے: لَأَمْنَعَنَّ فُرُوجَ ذَوَاتِ الْأَحْسَابِ إِلَّا مِنَ الْأَكْفَاءِ({ FR 2077 }) ’’میں شریف گھرانوں کی عورتوں کے نکاح کفو کے سوا کہیں اور نہ کرنے دوں گا۔‘‘ یہ تو ہے اس مسئلے کی نقلی دلیل۔ رہی عقلی دلیل، تو عقل کا صریح تقاضا یہ ہے کہ کسی لڑکی کو کسی شخص کے نکاح میں دیتے وقت یہ دیکھا جائے کہ وہ شخص اُس کے جوڑ کا ہے یا نہیں ۔اگر جوڑ کا نہ ہو تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ان دونوں کا نباہ ہوسکے گا۔ نکاح سے مقصود تو عقلاً بھی اور نقلاً بھی یہی ہے کہ زوجین کے درمیان مودّت ورحمت ہو اور وہ ایک دوسرے کے پاس سکون حاصل کرسکیں ۔ آپ خود سوچ لیں کہ بے جوڑنکاحوں سے اس مقصود کے حاصل ہونے کی کہاں تک توقع کی جاسکتی ہے؟اور کون سا معقول انسان ایسا ہے جو اپنے لڑکے یا لڑکی کا بیاہ کرنے میں جوڑ کا لحاظ نہ کرتا ہو۔ کیا آپ اسلامی مساوات کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ہر مرد کا ہر عورت سے اور ہر عورت کا ہر مرد سے صرف اس بِنا پر نکاح کردیا جائے کہ دونوں مسلمان ہیں ،بلا اس لحاظ کے کہ ان میں کوئی مناسبت پائی جاتی ہے یا نہیں ؟ فقہا نے اِ س جوڑ کا مفہوم مشخص کرنے کی کوشش کی ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے طریقے پر یہ بتایا ہے کہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان کن کن اُمور میں مماثلت ہونی چاہیے۔ ہم ان تفصیلات میں بعض فقہا سے اختلاف اور بعض سے اتفاق کرسکتے ہیں ۔ مگر فی الجملہ عقل عام یہ تقاضا کرتی ہے کہ زندگی بھر کی شرکت ورفاقت کے لیے جن دو ہستیوں کا ایک دوسرے سے جوڑ ملایا جائے،ان کے درمیان اخلاق، دین،خاندان،معاشرتی طور طریق، معاشرتی عزت وحیثیت، مالی حالات، ساری ہی چیزوں کی مماثلت دیکھی جانی چاہیے۔ ان اُمور میں اگر پوری یکسانی نہ ہو تو کم ازکم اتنا تفاوت بھی نہ ہو کہ زوجین اس کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رفاقت نہ کرسکیں ۔یہ انسانی معاشرت کا ایک عملی مسئلہ ہے جس میں حکمت عملی کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔آدم کی ساری اولاد کے یکساں ہونے کا نظریہ آپ یہاں چلانا چاہیں گے تو لاکھوں گھر برباد کردیں گے۔ہاں اگر آپ یہ کہیں کہ محض نسل ونسب کی بِنا پر ذات پات اور اُونچ نیچ کا تصور ایک جاہلی تصور ہے، تو اس بات میں یقیناً میں آپ سے اتفاق کروں گا۔ جن لوگوں نے کفاء ت کے فقہی مسئلے کو مسخ کرکے ہندوئوں کی طرح کچھ اونچی اور کچھ نیچی ذاتیں قرار دے رکھی ہیں ،ان پر مجھے بھی ویسا ہی اعتراض ہے جیسا آپ کو ہے۔ ( ترجمان القرآن، ستمبر۱۹۵۲ء)

Leave a Comment