عورت ہی کے لیے حجاب کی پابندی کیوں ؟

عورت کو پردے کا حکم ہے اور مرد بغیر پردے کے رہتا ہے۔ کیا یہ قرینِ انصاف ہے؟ کیا یہ مساوات مرد و زن کے تصور کے خلاف نہیں ہے؟ کیا اس سے عدل و انصاف کے تقاضے مجروح نہیں ہوتے؟ انسان کی عقل کہتی ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو برابر کی سطح پر ہونا چاہیے۔ آخر عورت کے پردے کے لیے کیا وجہ جواز ہے؟
جواب
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فطرت نے مرد اور عورت کے درمیان زبردست جنسی کشش رکھی ہے۔ ان کے باہم بے حجاب رہنے اور بے تکلف میل جول سے جنسی جذبات میں اشتعال پیدا ہوتا ہے اور وہ جنسی آوارگی کی طرف بڑھنے لگتے ہیں ۔ تاریخ کا تجربہ اور حال کا مشاہدہ ہے کہ بے حجابی نے زنا اور بدکاری کو عام کیا ہے اور ردائے عفت و عصمت تار تار ہوئی ہے۔ حجاب اسی سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں ۔ حجاب میں مرد رہے یا عورت۔ اسلام نے عورت کو حجاب کا حکم دیا ہے۔ یہ فطرت کے عین مطابق ہے۔ مرد کو اس کا حکم اس لیے نہیں دیا گیا کہ اگر وہ حجاب میں چلا جائے تو کارخانۂ حیات درہم برہم ہوجائے۔ مرد کے ذمے معاشی دوڑ دھوپ ہے، اس پر اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کی ذمے داری ہے۔ اس کے لیے اسے بعض اوقات اتنے سخت اور محنت طلب کام کرنے پڑتے ہیں جو عورت کی نازک فطرت اور مزاج سے مناسبت نہیں رکھتے۔ ان سب باتوں کو نظر انداز کرکے مرد کو حجاب کا پابند بنا دیا جائے اور عورت کو آزاد رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مرد گھر میں بیٹھا رہے اور عورت اپنی اور خاندان کی معاشی ذمے داری برداشت کرے۔ عورت اس کی متحمّل نہیں ہوسکتی۔

Leave a Comment