عہد نبویﷺ میں حدیث کی کتابت اور تدوین

اگر حیات طیبۂ نبویہ کے واقعات کو ما ٔخذ دین کی حیثیت حاصل ہے اور ان سے تشریعی احکام کا انتزاع ناگزیر ہے تو ان کی کتابت وتدوین عہد نبویؐ میں کیوں نہیں ہوئی؟
جواب
احادیث کے منضبط نہ کیے جانے کی وجہ سمجھنے کے لیے اس وقت کے ماحول کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ اس وقت لکھنے پڑھنے والے کم تھے اور سامان کتابت اور بھی زیادہ کم یاب تھا۔ آپ کو معلوم ہے کہ قرآن مجید کو محفوظ کرنے کے لیے بھی کھجور کے پتے، جھلیاں ، تختیاں وغیرہ استعمال کی جاتی تھیں ۔اب یہ آخر کس طرح ممکن تھا کہ حضورﷺ کے ساتھ ہر وقت ایک کاتب کاغذ قلم لیے لگا رہتا اور تمام حرکات وسکنات قلم بند کرتا رہتا۔ ویسے بھی یہ بات کچھ غیر فطری ہے کہ ایک آدمی کے ساتھ سفر وحضر میں او رخلوت وجلوت میں کاتبین لگے رہیں اور ہر تقریر، گفتگو، فعل، ترک فعل، سکوت وغیرہ کو لکھتے رہیں ۔ اور ظاہر ہے کہ جب کتابت کا اصول لازم کردیا جاتا تو پھر آں حضورﷺکے بعض اعمال واقوال کو اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جاسکتا تھا اور انھیں بتمام و کمال احاطۂ تحریر میں لانا قطعاًمحال اور عملاًناممکن تھا۔ آپؐ کا قول وفعل بلا شک وشبہہ حجت ہے اور اسے ہونا ہی چاہیے۔ لیکن حجت ہونے کے ساتھ آخر یہ کب ضروری ہے کہ ہر چیز ہر وقت فوراً لکھ ہی لی جائے۔جب یہ ثابت ہے کہ آں حضور ﷺ کے قول وفعل کا حجت ہونا صحابہ کرامؓ کے ذہن نشین تھا تو یہ بات عین تقاضاے عقل وفطرت ہے کہ انھوں نے ہر بات کو غور سے دیکھا اور سنا ہوگا،آپس کے معاملات میں وہ ان اقوال و افعال سے سند لاتے ہوں گے اور ہر معاملے میں یہ خیال رکھتے ہوں گے کہ کیا کچھ حضور ﷺ سے ثابت ہے اور کیا کچھ ثابت نہیں ہے۔ یہ سنت نبویؐ کی حفاظت کا فطری راستہ تھا اور یہی اُمت نے اختیار کیا۔ قرآن تو ایک قابل کتابت چیز تھا اور مختصر تھا،اس لیے لکھ لیا گیا۔مگر حضور ﷺ کی تیئیس سالہ زندگی کے احوال اور حرکات وسکنات کو اور اس ماحول کو جس میں حضور ﷺ نے یہ سب کام سرانجام دیے،عالم واقعہ میں آتے ہی عالم تحریر میں نہیں لایا جاسکتا تھا۔مجرد ظہور کے وقت تو یہ سارے امور ذہنوں اور حافظوں میں ہی محفوظ کیے جاسکتے تھے اور دیکھنے والوں سے سننے والوں تک زبانی ہی پہنچائے جاسکتے تھے۔چنانچہ یہ عمل پورے استیعاب، تواتر اور تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ حتیٰ کہ باقاعدہ اورمفصل تدوین وکتابت کے لیے جملہ ساز وسامان اور آسانیاں مہیا ہوگئیں اور سنت کا یہ عظیم الشان ذخیرہ سینوں سے سفینوں میں منتقل ہوگیا۔ (ترجمان القرآن ، مار چ۱۹۵۴ء)

Leave a Comment