غلافِ کعبہ اور تبرک

جو غلاف ابھی چڑھایا نہ گیا ہو بلکہ چڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہو، وہ تو محض کپڑا ہے، آخر وہ متبرک کیسے ہو گیا کہ اس کی زیارت کی اور کرائی جائے اور اسے اہتما م کے ساتھ جلوس کی شکل میں روانہ کیا جائے۔ پھر جو غلاف خانہ کعبہ سے اُترتا ہے، اس کی تعظیم وتکریم کیوں روا نہیں رکھی جاتی اور فقہا نے اس کا عام کپڑے کی طرح استعمال واستفادہ کیوں جائزرکھا ہے۔
جواب
کوئی کپڑا خواہ کعبے پر چڑھایا گیا ہو،یا چڑھنے کے لیے تیار کیا گیا ہو،دونوں صورتوں میں وہ ایسا متبرک نہیں ہوجاتا کہ اس سے برکت حاصل کرنے کے لیے اس کو چھوا جائے، چوما جائے اس کی زیارت کی اور کرائی جائے اور اسے دھوم دھام سے روانہ کیا جائے۔بلکہ فقہا نے کعبے پر سے اترے ہوئے غلاف سے بھی لباس بنانے کو جائز قرار دیا ہے،بشرطیکہ اس پر کلمہ طیبہ یا آیات قرآنی یا اسماے الٰہی لکھے ہوئے نہ ہوں ۔ لیکن اگر لوگ اس بناپر اس کا از خود(نہ کہ کسی شرعی حکم اور فتوے کی حیثیت سے) احترام کریں کہ یہ اﷲ کے گھر کے لیے جارہا ہے،یا وہاں سے اُتر کر آیا ہے، تو اس احترام کو ناروا بھی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ تو اس نسبت کا احترام ہے جو اسے اﷲ کے گھر سے حاصل ہوگئی ہے۔ اس احترام کے لیے اﷲ تعالیٰ کی عظمت ومحبت کے سوا کوئی دوسرا محرک نہیں ہے۔اس احترام کو کوئی شخص واجب اور کسی خاص شکل کو لازم قرار دے تو غلط ہے۔ لیکن کوئی اسے مذموم ٹھیرائے اور خواہ مخواہ شرک قرار دے تو یہ بھی زیادتی ہے۔رہی اس کی زیارت اور اس کے لیے جلوس کا اہتمام، تو وہ جس کی بِنا پر کیا گیا ،اس کی وضاحت میں اوپر کرچکا ہوں ۔ (ترجمان القرآن، اپریل ۱۹۶۳ء)

Leave a Comment