قدرتی آفات کے وقت مکانوں کی چھتوں پر اذان دینا

حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران بعض لوگوں نے مکانوں کی چھتوں پر خوفِ خدا سے اذانیں دیں ۔ ایسا کرنا کہاں تک جائز ہے؟ کیا یہ فعل مستحب ہے یا گناہ ہے یا خلافِ شرع ہے؟
جواب

سیلاب یا کثرتِ بارش یا کسی اور آفت کے موقع پر اذانیں دینا مسلمانوں میں رائج ہوگیا ہے، لیکن میرے علم کی حد تک یہ طریقہ کسی سند پر مبنی نہیں ہے، بلکہ غالباً لوگوں نے اسے اللّٰہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارنے کی ایک صورت سمجھ کر اختیار کیا ہے۔ اگر لوگ اسے مشروع سمجھ کر کریں تو غلط ہے اور اگر محض اللّٰہ سے فریاد کرنے اور اس کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے کریں تو مباح ہے۔ (ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۷۶ء)


Leave a Comment