قرآن کریم کا رسول اللّٰہﷺ کی تصنیف نہ ہونا

میرے ایک عزیز جو اَب لا مذہب ہو چکے ہیں ، قرآن شریف کو (معاذ اﷲ) رسول اللہﷺ کی تصنیف قرار دیتے ہیں ۔ ان کی بہت سی باتوں کو اس وجہ سے ناقابل عمل سمجھتے ہیں کہ وہ اس وقت کے لیے تھیں جب قرآن نازل ہوا۔اُمید ہے آپ جواب دیں گے۔
جواب
قرآن کے متعلق] اپنے ایک عزیز[ کے جو خیالات آپ نے نقل کیے ہیں ،ان کے بارے میں بھی میری وہی راے ہے جو میں نے ] سوال نمبر۱۴ میں [ عرض کی ہے کہ وہ کسی چیز سے پوری واقفیت بہم پہنچائے بغیر اور اس پر کافی غور کیے بغیر راے قائم کرنے کے خوگر ہیں ۔اُن سے پوچھیے کہ آپ نے ساری عمر میں کتنی دفعہ قرآن کا گہرا تحقیقی مطالعہ فرمایا ہے، جس کے بعد آپ اس کے بارے میں یہ فیصلہ دینے کے قابل ہوئے ہیں ۔اگر وہ ایمان داری کے ساتھ یہ تسلیم فرمالیں کہ انھوں نے اس طرح کا تحقیقی مطالعہ نہیں کیا ہے،تو ان سے گزارش کیجیے کہ تحقیق کے بغیر ایسے اہم مسائل میں فیصلے صادر کرنا کسی ذی ہوش اور تعلیم یافتہ آدمی کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اور اگر ان کا دعویٰ یہ ہو کہ انھوں نے خوب تحقیق کرکے یہ راے قائم کی ہے تو ان سے دریافت کیجیے کہ قرآن کے اندر انھوں نے وہ کون سی شہادت پائی ہے جسے دیکھ کر وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ محمد رسول اﷲ ﷺ کا اپنا کلام ہے۔نیز یہ بھی دریافت کیجیے کہ قرآن کی کن کن باتوں کو انھوں نے ناقابل عمل، یا زمانۂ نزول قرآن تک کے لیے قابل عمل پایا ہے۔ ان امور کی تعیین ان سے کرالیجیے اور پھر مجھے لکھیے، تاکہ میں بھی کچھ ان کے نتائج تحقیق سے استفادہ کرسکوں ۔ (ترجمان القرآن ،جو ن ۱۹۶۲ء)

Leave a Comment