قرآن کی تأویل میں حدیث کی اہمیت

اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ تعدد ازواج والی آیت کے معنی بالکل صاف ہیں تو کیا اس کی کوئی ضرورت ہے کہ وہ حدیث کی طرف رجوع کرے؟ واضح رہے کہ میں بجاے خود تعدد ازواج کے مسئلے میں دل چسپی نہیں رکھتا،بلکہ یہاں زیر بحث قرآن کی تأویل کا مسئلہ ہے۔
جواب

آپ نے اس سوال کے ضمن میں ایک اور سوال یہ چھیڑ دیا ہے کہ اگر ایک شخص کسی آیت کا مطلب صاف محسوس کررہا ہو تو اسے حدیث کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟میں کہتا ہوں کہ ایک شخص خواہ قرآن کو محمدﷺ کی تصنیف سمجھتا ہو یا یہ سمجھتا ہو کہ یہ خدا کی کتاب ہے اور محمدﷺ خدا کے رسول ہیں ، دونوں صورتو ں میں اس کا یہ دعویٰ کرنا غلط ہوگا کہ اسے قرآن کو سمجھنے کے لیے محمدﷺ کی قولی وعملی تشریح سے مدد لینے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔اگر وہ اسے آں حضرت ﷺ کی تصنیف سمجھتا ہے تو اسے ماننا ہوگا کہ مصنف نے اس کی جو تشریح بھی کی ہو، وہی اس کا اصل مدعا ہے۔اور اگر وہ اسے خدا کا کلام مانتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا ہی نے اسے اس کی تعلیم دینے کے لیے محمد ﷺ کو مامور کیا تھا،تب بھی اسے یہ ماننا پڑے گا کہ خدا کے کلام کا جو مفہوم محمدﷺنے سمجھا تھا، وہی اس کا مستند مفہوم ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ کوئی حدیث جو محمدﷺ کی طر ف منسوب کی جاتی ہو، صحیح ہے یا نہیں ، اور اس کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کے دلائل کیا ہیں ، مگر بجاے خود یہ بات ناقابل انکار ہے کہ قرآن کو سمجھنے میں ہم حدیث سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ (ترجمان القرآن،اکتوبر ۱۹۵۵ء)


Leave a Comment