لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کے معنی اور قادیانیوں کا معاملہ

قرآن کہتا ہے: لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ( البقرہ:۲۵۶) ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔‘‘ کیا ایران میں بہائیوں کا استیصال اس آیت کے خلاف نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیوں ؟ کیا پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف ہنگامے اس آیت کے خلاف نہ تھے؟ اگر نہ تھے تو کیوں ؟
جواب
آیت لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ(البقرہ:۲۵۶)’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘عربی زبان کے لحاظ سے’’دین میں ‘‘ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ۔ایک’’ دین قبول کرنے یا اختیا رکرنے کے معاملے میں ‘‘اور دوسرے ’’دین کے نظام میں ‘‘۔ ان دو تعبیروں میں سے کون سی تعبیر قابل ترجیح ہے،اس کا فیصلہ محض اس آیت کے الفاظ سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے آپ کو سیاق وسباق کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ جس سیاق وسباق میں یہ آیت آئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات کا ایک واضح تصور پیش کیا گیا ہے،جو مختلف اقسام کے شرک میں مبتلا ہونے والی تمام موجودالوقت مذہبی جماعتوں کے تصور اِلٰہ سے مختلف ہے، اور اس دین کا بنیادی عقیدہ ہے جس کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے۔پھر کہا گیا ہے کہ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے، راہ راست گمراہی سے ممیز ہوچکی ہے،اب جوکوئی طاغوت کو چھوڑ کر اﷲ پر ایمان لاے، اس نے ایک ایسی رسی تھام لی جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور اﷲسب کچھ سننے اورجاننے والا ہے۔جو لوگ ایما ن لائیں ،اﷲ ان کا سرپرست ہے، وہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔ اور جو لوگ کفر کریں ،ان کے سرپرست طاغوت ہیں ، وہ ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں میں لے جاتے ہیں —‘‘اس سیاق وسباق میں خط کشیدہ فقرہ صاف طور پر یہ معنی دے رہا ہے کہ اﷲ کے متعلق مذکورہ بالا عقیدہ کسی سے زبردستی نہیں منوایا جائے گا۔صحیح عقیدے کو غلط عقائد کے مقابلے میں پوری وضاحت سے پیش کردیا گیا ہے۔اب جو کوئی غلط عقائد کو چھوڑ کر اﷲ کو اس طرح مان لے گا جس طرح بتایا گیا ہے،وہ خود فائدہ اٹھائے گا، اور جو ماننے سے انکار کرے وہ آپ ہی نقصان میں رہے گا۔ اس کے بعد آپ پورے قرآن پر ایک نگاہ ڈالیے۔ یہاں آپ دیکھیں گے کہ متعدد جرائم کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں ، بہت سی اخلاقی خرابیوں کو دبانے کا حکم دیا گیا ہے، بہت سی چیزوں کو ممنوع ٹھیرایا گیا ہے، متعدد چیزوں کو فرض ولازم قرار دیا گیا ہے، اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رسول اور اصحاب امر کی اطاعت کریں ۔ ان سب احکام کو نافذ(enforce) کرنے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی طرح کی قوتِ جابرہ (coercive power) کا استعمال ناگزیر ہے، خواہ وہ ریاست کی طاقت ہو یا سوسائٹی کے اخلاقی دبائو کی طاقت۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘کہنے سے قرآن کا منشایہ ہرگز نہیں ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں سرے سے جابرانہ قوت کے استعمال کا کوئی مقام ہی نہیں ہے۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دین اسلام کو قبول کرنے کے معاملے میں جبر کا کوئی کام نہیں ، جو قبول کرنا چاہے،وہ اپنی آزاد مرضی سے قبول کرے اور جوقبول نہ کرنا چاہے اسے کوئی زبردستی ایمان لانے پر مجبور نہ کرے گا۔ اس مضمون پر مزید روشنی رسول اﷲﷺاور آپ سے براہِ راست تربیت پانے والے اصحاب کے طرز عمل سے پڑتی ہے۔ انھوں نے کبھی کسی غیر مسلم کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کیا،مگر جو لوگ اسلام قبول کرکے مسلم سوسائٹی میں داخل ہوگئے، ان کو اسلامی احکام کی تعمیل پر ضرور مجبور کیا اور اس غرض کے لیے اخلاقی ومعاشرتی دبائو ہی سے نہیں ،حکومت کی طاقت سے بھی کام لیا۔ ان کے زمانے میں بکثرت غیر مسلم اسلامی حکومت کی رعایا بنے۔انھیں عقیدے اور عبادت اور مذہبی رسوم ادا کرنے کی پوری آزادی دی گئی ،اور ان کے شخصی قانون(Personal Law) کو بحال رکھا گیا، مگر اسلامی حکومت کا اجتماعی قانون(Public Law) ان پر بھی اسی طرح نافذ کیا گیا جس طرح وہ مسلمانوں پر نافذکیا جاتا تھا۔ یہاں تک میں نے آیت کے اصل مفہوم کی تشریح کی ہے ] ... [ ایران میں بہائیوں کے ساتھ جو معاملہ ہوا،اس کے متعلق میرے پاس پوری معلومات نہیں ہیں ، اس لیے میں اس پر کوئی اظہارراے نہیں کرسکتا۔ لیکن پاکستان میں قادیانیوں کے معاملے پر آپ کا سوال سخت غلط فہمی پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔یہاں کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ قادیانیوں کو ملک سے نکال دیا جائے،یا مٹا دیا جائے، یا زبردستی قادیانیت چھوڑنے پر مجبور کیا جائے، یا حقوق شہریت سے محروم کردیا جائے۔ مطالبہ صرف یہ تھا اور ہے کہ جب وہ بنیادی عقیدے اور مذہبی اعمال اور معاشرتی نظام میں مسلمانوں سے خود الگ ہوچکے ہیں تو اس علیحدگی کو آئینی طور پر تسلیم کرلیا جائے اور انھیں بغیر کسی معقول وجہ کے مسلم سوسائٹی کا ایک حصہ نہ قرار دیا جائے۔ آپ خود غور کیجیے کہ یہ مطالبہ آخر کس منطق کی رو سے قرآن مجید کی زیر بحث آیت کے خلاف پڑتا ہے؟کیا دین میں جبر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس گروہ کو تمام مسلمان دین سے خارج سمجھتے ہیں ،اور جو خود بھی تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان سے عملاًالگ ہوچکا ہے،اسے دین میں داخل تسلیم کرنے پر مسلمانوں کو مجبور کرنا چاہیے؟رہے وہ فسادات جو مارچ۱۹۵۳ء میں ہوئے تھے تو یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے کہ وہ قادیانیوں کے خلاف تھے۔ ان کو قادیانیوں کے خلاف ہنگاموں (Anti-Qadiani Disturbance) کا نام بالکل غلط دیا گیا ہے، جس سے ناواقف حال لوگوں کو خواہ مخوہ یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہاں کے عام مسلمان شاید قادیانیوں کو قتل وغارت کرنے پر تل گئے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ فسادات حکومت اور عوام کے درمیان اس کش مکش کی وجہ سے برپا ہوئے تھے کہ ایک طرف عوام قادیانیوں کے بارے میں مذکورۂ بالا مطالبہ تسلیم کرانے کے لیے حکومت پر دبائو ڈالنا چاہتے تھے اور دوسری طرف حکومت ان کے اس ایجی ٹیشن کو طاقت سے دبا دینا چاہتی تھی۔پس تصادم دراصل حکومت اور عوام کے درمیان ہوا تھا نہ کہ قادیانیوں اور عوام کے درمیان۔ قادیانیوں کی جان ومال پر عوام نے صرف اس وقت حملہ کیا جب انھیں یقین ہوگیا (اور اس یقین کے لیے اچھے خاصے وزنی وجوہ تھے) کہ فسادات کے دوران میں پولیس اور فوج کی وردیاں پہن کر بعض قادیانی مسلمانو ں کو قتل کرتے پھر رہے تھے۔ (ملاحظہ ہو تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ،صفحہ۱۵۶) (ترجمان القرآن ، اکتوبر۱۹۵۵ء)

Leave a Comment