مباح اشیا کو فروخت کرنا

میری دکان بساط خانہ(General Merchant) کی ہے۔جنرل مرچنٹ کے ہاں ہر قسم کے سودے فروخت ہوتے ہیں ۔خاص کر پائوڈر، کریم، لپ اسٹک، نیل پالش، سینٹ،عطر،ریشمی بنیان، ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ، شیونگ سیٹ، سنگار دان، بچوں کے کھلونے، زیورات وغیرہ۔کیا متذکرۂ بالا چیزیں ناجائز ہیں یا ان کو فروخت کرنا ازروے شریعت ممنوع ہے؟کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تمام چیزیں تعیش میں مدد دیتی ہیں ، لہٰذا یہ مسرفانہ فعل ہے۔اس کو فروخت کرنے اور استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔کیا یہ درست ہے؟
جواب

بساط خانہ میں جو چیزیں آپ فروخت کرتے ہیں (جن کی کچھ فہرست بھی آپ نے دی ہے)ان میں سے کوئی چیز بھی فی نفسہٖ حرام نہیں ہے۔ان کا استعمال جائز بھی ہوسکتا ہے اور ناجائز بھی۔ دکان دار کی حیثیت سے آپ پر یہ دیکھنا فرض نہیں ہے کہ کون ان چیزوں کو کس طرح استعمال کرے گا۔آپ کے لیے صرف یہ بات کافی ہے کہ آپ کوئی حرام چیز فروخت نہ کریں ۔ نہ بیع وشرا میں حرام طریقے استعما ل کریں ۔ (ترجمان القرآن ، ستمبر۱۹۵۱ء)


Leave a Comment