محرم کے بغیر سفرِ حج

میں ایک تحریکی بہن ہوں ، میری عمر ۳۹ سال ہے۔ جماعتِ اسلامی سے الحمدللہ پانچ سال سے وابستہ ہوں ۔ اس سال حج کو جانے کا ارادہ ہے۔ لیکن محرم کا مسئلہ ہے۔ پچھلے سال چھوٹے بھائی یہ فریضہ ادا کرچکے ہیں ۔ دیگر دو بھائی ہیں جو فی الحال صاحبِ استطاعت نہیں ہیں ۔ اس سال میرے بھائی کے برادر نسبتی، ان کی اہلیہ اور بھائی کی ساس، جو عمر رسیدہ ہیں ، حج کو جا رہے ہیں ۔ انھیں کے ساتھ میں نے بھی حج کا ارادہ کیا ہے۔ اور الحمد للہ حج کے لیے جو اخراجات درکار ہیں وہ بھی موجود ہیں ۔ بھائی صاحب نے مقامی مفتی سے جو فقہِ حنفی کے پیرو کار ہیں ، مسئلہ دریافت کیا تو مفتی صاحب نے یہ فتویٰ دیا کہ بغیر محرم کے عورت سے حج ساقط ہوجاتا ہے۔ مفتی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ عورت اگر بغیر محرم کے حج کو جائے تو حج ہوجائے گا لیکن وہ گناہ گار ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ دوسرے فقہاء کے یہاں کوئی گنجائش ہے؟ براہِ کرم آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں ، اللہ آپ کو اجرِ جزیل سے نوازے۔
جواب
حج کا ارادہ مبارک ہو۔ آپ کے اندر اس کی خواہش اور ذوق و شوق فطری ہے اور ایمان کی علامت ہے۔ آپ نے دریافت کیا ہے کہ عور ت کے حج کے لیے محرم کا اس کے ساتھ ہونا ضروری ہے یا اس میں کوئی رعایت یا گنجائش بھی ہے؟ اس مسئلہ میں فقہاء کی رائیں بھی جاننا چاہتی ہیں ۔ فقہاء کی رائیں اس مسئلہ میں مختلف ہیں ۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام احمدؒ کی رائے یہ ہے کہ عورت کے حج کے لیے اس کے ساتھ محرم کا ہونا ضروری ہے۔ امام مالکؒ، امام اوزاعیؒ اور امام شافعیؒ نے عورت کے لیے محرم کی شرط نہیں رکھی ہے۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ عورتوں کی کوئی جماعت حج پر جارہی ہو تو عورت ان کے ساتھ حج کا سفر کرسکتی ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ قابل اعتماد کسی ایک مسلمان عورت کے ساتھ بھی عورت کو سفر حج کی اجازت ہے۔ امام احمد سے ایک روایت یہ بھی منقول ہے کہ عورت کے فرض حج کے لیے محرم کی شرط نہیں ہے۔ ہاں ، نفل حج بغیر محرم کے نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن فقہ حنبلی میں فتویٰ اسی قول پر ہے کہ عورت کے سفر کے لیے محرم کا ہونا شرط ہے۔۱؎ اس تفصیل سے واضح ہے کہ بعض فقہاء کے ہاں عورت کے سفر حج کے لیے محرم کی شرط نہیں ہے۔ لیکن یہ رائے کم زور معلوم ہوتی ہے۔ اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ اور ان کے ہم خیال فقہا کی رائے بہ ظاہر درست ہے۔ اس لیے کہ عورت کے لیے محرم کی شرط صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: لا یخلونَّ رجل بامراۃ ولا تسافرنَّ امرأۃ الا و معھا محرم فقال رجل یا رسول اللہ! اکتببت فی غزوۃ کذا و کذا و خرجت امراتی حاجۃ۔ فقال اذھب فحُجَّ مع امرأ تک۲؎ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ہرگز خلوت میں نہ رہے، اور کوئی عورت ہرگز سفر نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو۔ اس پر ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول (ﷺ) فلاں جنگ میں میرا نام لکھ دیا گیا ہے اور میری بیوی حج کے لیے روانہ ہوگئی ہے (قصد کرچکی ہے)۔ آپؐ نے فرمایا: اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ میری ناچیز رائے یہ ہے کہ محرم کے بغیر آپ حج کا قصد نہ فرمائیں ۔ جب اس کی صورت نکل آئے تو اسی وقت آپ پر حج فرض ہوگا۔

Leave a Comment