مروّجہ کچے اور پکے پیمانوں کی حیثیت

چمڑے کے کاروبار میں کروم ایک ایسی چیز ہے جس پر فٹ کی پیمائش کا اندراج بہت غلط ہوتا ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ مال کلکتے میں تیار ہوتا ہے۔مال تیار کرنے والے ہر تھان پر اصل پیمائش سے زائد فٹ لکھ دیتے ہیں ۔ مثلاًدس فٹ کے تھان کو بارہ فٹ ظاہر کرتے ہیں ۔اس کے بعد کلکتہ کے تاجر یہ مال خریدتے ہیں اور یہ کچھ اور فٹ بڑھا دیتے ہیں ۔اس کے بعد جب باہر کے تاجر ان سے مال خرید لے جاتے ہیں تو پھر وہ مزید فٹ بڑھاتے ہیں ۔ یہاں آکر تھان پر فٹوں کا پکا اندراج ہوجاتا ہے اور پھر وہ آخر تک یہی اندراج قائم رہتا ہے۔صحیح فٹ والا مال مارکیٹ میں نہیں ملتا۔ تقریباً سبھی کارخانے اور تاجر یہی کچا فٹ استعمال کرتے ہیں ۔عام طور پر گاہک اس صورت حال سے آگاہ ہوتے ہیں اور اس وجہ سے ہم پیمائش کی اس گڑبڑ کے متعلق کوئی توضیح نہیں کرتے۔لیکن اگر کوئی گاہک پوچھے تو اسے صاف بتا دیتے ہیں کہ اس مال پر کچے (یعنی غلط ) فٹوں کا نمبر لگا ہوا ہے۔ ہم اسی کچے فٹ کے حساب سے خریدتے ہیں اور اسی کے حساب سے منافع لگا کر فروخت کرتے ہیں ۔ شرعاً ایسے کاروبار کی کیا حیثیت ہے؟
جواب
تجارت میں جب یہ چیز معروف ہے ،یعنی دکان دار اور خریدار سب اس بات سے واقف ہیں کہ کچے اور پکے اوزان یا پیمانوں میں کیا فرق ہے اور کون سی چیز پکے پیمانوں کے حساب سے ملتی ہے اور کون سی کچے پیمانوں کے حساب سے، تو اس صورت میں یہ معاملہ جائز شمار ہوگا۔ لیکن یہ کوئی اچھا طریقہ نہیں ہے کہ گوناگوں اوزان اور پیمانے رائج رہیں ۔اس سے ناواقف لوگ نقصان اٹھاتے ہیں ۔ایک اچھے نظامِ حکومت کا فرض ہے کہ وہ تجارت کو ان’’اِسرارِ نہاں ‘‘ سے پاک کرے۔ (ترجمان القرآن، اگست۱۹۴۶ء)

Leave a Comment