مسئلہ جبر وقدر اور مخالفین کی بددیانتی

آپ کی کتابوں کی بعض باتوں پر مجھے شک ہے۔مثلاًآپ قضا وقدر کو جزو ایمان نہیں سمجھتے جیسا کہ آپ کی مندرجۂ ذیل تحریر سے معلوم ہوتا ہے: ’’ہر چند میرے نزدیک مسئلۂ قضا وقدر جز وِایمان نہیں ہے۔‘‘ ({ FR 1135 }) لیکن علماے دین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ جزو ایمان ہے۔جیسا کہ آتا ہے: اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔({ FR 1136 })
جواب
آپ کا عنایت نامہ ملا۔آپ کے سوالات پر کچھ عرض کرنے سے پہلے میں آپ کو یہ نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اوّل تو اپنی دنیا وعافیت کی فکر چھوڑ کر دوسروں کے خیر وشر کے کھوج میں پڑنا ہی کوئی معقول کام نہیں ہے۔تاہم اگر آپ کو ایسا ہی کچھ شوق ہے کہ دوسروں کے عقائد کی ٹوہ لیتے پھریں یا کچھ ایسی ضرورت لاحق ہوگئی ہے کہ دوسروں کے متعلق راے قائم کریں تو کم ازکم آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی شخص کے متعلق کوئی اچھی یا بُری راے تحقیق کے بغیر قائم کرنا بہت بُری بات ہے۔آج کل بہت سے پیشہ ور لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو خواہ مخواہ کسی فائدے کے لالچ کی بنا پر یا محض بغض وحسد کی بنا پر دوسروں کو بدنام کرنے کے لیے طرح طرح کے اشتہارات شائع کرتے ہیں اوران میں ہر قسم کی غلط باتیں دوسروں کی طرف منسوب کرکے خلق اﷲ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان اشتہارات کو دیکھ کر اور ان کے غلط حوالوں کوپڑھ کر کسی شخص کے متعلق راے قائم کرنے کے بجاے آپ کو خود وہ اصل کتابیں پڑھنی چاہییں جن میں اس شخص نے اپنے خیالات بیان کیے ہیں ۔ اس نصیحت کے بعد آپ کے سوالات کے مختصر جوابات عرض کرتا ہوں : آپ نے میری کتاب’’مسئلۂ جبر وقدر‘‘ کے جس فقرے کا حوالہ دے کر مجھ پر یہ الزام لگایا ہے کہ تم قضا وقدرکو جزوِ ایمان نہیں سمجھتے،وہ فقرہ میری عبارت کا نہیں ہے بلکہ اس شخص کی عبارت کا ہے جس کے سوالات کا جواب دینے کے لیے میں نے یہ کتاب لکھی ہے۔ آپ کے اس سوال سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو آپ نے میری اس کتاب کو خود نہیں پڑھا، یا پھر آپ اتنا بھی نہیں جانتے کہ ایک شخص اپنی کسی تحریر کے درمیان جس عبارت کو حاشیہ چھوڑ کر واوین کے درمیان نقل کرتا ہے،وہ اس کی اپنی عبارت نہیں ہوتی بلکہ دوسرے شخص کی عبارت ہوا کرتی ہے۔ اگر آپ نے یہ کتاب خود نہیں پڑھی ہے بلکہ کہیں سے سن سنا کر اس فقرے کے حوالے سے مجھ پر ایک الزام چسپاں کردیا ہے تو آپ خود ہی سوچ لیجیے کہ یہ حرکت کرکے آپ کیسی سخت بے انصافی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اور اگر آپ نے اس کتاب کو خود پڑھا ہے اور پھر بھی آپ یہ نہیں سمجھ سکے کہ جس عبارت کا ایک فقرہ آپ نقل کررہے ہیں ،وہ میری عبارت نہیں بلکہ اس سائل کی عبارت ہے جس کا جواب دینے کے لیے میں نے اسے نقل کیا ہے،تو آپ فرمائیں کہ اس قابلیت اور سمجھ بوجھ کے آدمی کو آخر کیا ضرورت پڑی ہے کہ اتنے بڑے بڑے مسائل کے متعلق دوسروں کے عقائد کی صحت وعدم صحت کا فیصلہ کرنے بیٹھ جائے۔ (ترجمان القرآن، مارچ تا مئی ۱۹۵۱ء)

Leave a Comment