مساجد میں خواتین کی حاضری

رسول اللہﷺ کے دور میں خواتین مسجد جایا کرتی تھیں ، لیکن ہمارے علماء مساجد میں خواتین کی آمد کو فساد کا سبب قرار دیتے ہیں اور اس کا فقہی حوالہ بھی دیتے ہیں ۔ اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ خواتین اس وعظ و نصیحت سے محروم رہتی ہیں جس کا مساجد میں اہتمام ہوتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ بازار میں خواتین کی آمد و رفت رہتی ہے اور وہ بے تکلف گھومتی پھرتی ہیں ۔ اس کی مخالفت نہیں کی جاتی، مساجد میں جانے سے انھیں باز رکھا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں صحیح رویہ کی وضاحت فرمائیں ؟
جواب
رسول اللہﷺ کے دور مسعود میں ، اس میں شک نہیں خواتین مسجد جایا کرتی تھیں ۔ ان کے لیے الگ سے انتظام بھی تھا۔ اس کے ساتھ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ عورت کا گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ یہ بھی ہدایت فرمائی کہ خواتین رات کے اوقات میں مسجد جائیں ، دن میں نہ جائیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کے لیے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا فرض یا واجب یا باعث فضیلت نہیں ہے، بلکہ حالات کے لحاظ سے اس کی حیثیت جواز کی ہے۔ ۱؎ علماء نے عورتوں کے مسجد جانے کی حوصلہ افزائی نہیں کی یا اس کی مخالفت کی تو اس کی وجہ موجودہ فساد زدہ ماحول اور اخلاقی بگاڑ ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ خواتین کو مسجد میں آنے سے منع کیا جاتا ہے، لیکن وہ بازار میں گھومتی پھرتی ہیں اس پر نکیر نہیں کی جاتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مسجد اور بازار میں فرق ہے۔ مسجد عبادت گاہ اور انتہائی تقدس اور احترام کی جگہ ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھی پاک صاف ہوکر محض اللہ کی عبادت کے لیے وہاں پہنچے۔ اس کا دل و دماغ ذہنی آلائشوں اور سفلی جذبات سے پاک ہو۔ موجودہ حالات میں خواتین کی بہ کثرت آمد و رفت سے اس فضا کا باقی رہنا دشوار ہے۔ بازار کا معاملہ اس سے بہت مختلف ہے۔ عورتیں عام طور پرروز مرہ کی خریداری اور گھریلو ضروریات کے سلسلے میں بازار جاتی ہیں ۔ بازار مادی چیزوں کی خرید و فروخت کی جگہ ہے۔ اس کے سلسلہ میں مسجد کی طرح احترام کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ عورتوں کو یہ اجازت ضرورت کے تحت دی گئی ہے۔ اگر وہ بغیر کسی ضرورت کے محض سیر سپاٹے یا تفریح کے لیے بازار میں گھومتی ہیں تو یہ شرعاً نا درست ہے۔ اس کی اصلاح کی کوشش ہونی چاہیے۔ رسول اللہؐ کی ہدایت ہے کہ عورت بے ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے، نکلے تو بن سنور کر نہ نکلے، لباس شوخ نہ ہو بلکہ سادہ ہو، تیز خوشبو نہ استعمال کرے، راستہ میں بھیڑ بھاڑ سے بچے اور کنارے کنارے چلے۔ اس طرح کی اور بھی ہدایات ہیں ، جن کی پاس داری ایک مسلمان عورت کو بہرحال کرنی چاہیے، ورنہ وہ شریعت کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوگی۔ اب رہا یہ سوال کہ مساجد وعظ و نصیحت کا بھی مرکز ہیں ۔ خواتین اگر مسجد نہ آئیں تو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں ۔ اس سلسلے میں میرا خیال ہے کہ خواتین کو اس کے مواقع ضرور ملنے چاہئیں اور ایسا نظم ضرور ہونا چاہیے کہ وہ مساجد میں ہونے والے درس و تذکیر اور خطابات سے استفادہ کرسکیں ۔ خاص طور پر جمعہ اور عیدین میں ان کی شرکت کا نظم ہونا چاہیے، اس سے ان کی دینی معلومات میں اضافہ ہوگا اور ان میں دینی جذبہ ابھرے گا۔ حدیث میں خواتین کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ عیدگاہ پہنچیں اور نماز میں شریک ہوں ۔

Leave a Comment