مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ

اکراہ کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ لفظ قہر (coercion) سے زیادہ وسیع نہیں ہے؟اگر موجودہ زمانے کی ایک ریاست میں مسلمانوں کو ٹیکس میں رعایات ملیں یا شہریت کے زیادہ فوائد حاصل ہوں تو کیا یہ بھی غیر مسلموں کے حق میں اکراہ نہ ہو گا؟یقیناً ایک ایسا تاجر جو تھوڑے منافع پر کام کررہا ہو،اپنی روزی محفوظ رکھنے کے لیے ایسے حالات میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔
جواب
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹیکس عائد کرنے کے معاملے میں کوئی امتیاز اسلامی قانون کے اندر نہیں ہے۔اس میں شک نہیں کہ ابتدائی اسلامی دور میں عملاًغیر مسلم تاجروں سے مسلمان تاجروں کی بہ نسبت زیادہ تجارتی محصول لیا جاتا تھا،مگر دراصل وہ کسی مستقل شرعی حکم کی بِنا پر نہ تھا،اور نہ اس سے مقصود غیر مسلم تاجروں کو اسلام لانے پر مجبور یا آمادہ کرنا تھا،بلکہ وہ ایک وقتی تدبیر تھی جو مسلمانوں کو تجارت کی طرف مائل کرنے کے لیے اختیار کی گئی تھی ،کیوں کہ اس وقت مسلمان اکثر وبیش تر فوجی اور سول خدمات میں لگ گئے تھے ،اور نومفتوح ممالک کی پوری معاشی زندگی(تجارت، صنعت وحرفت، زراعت وغیرہ) بالکل غیر مسلموں کے ہاتھوں میں تھی۔اس پر اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ اس ترجیح کے نتیجے میں قلیل منافع پر کام کرنے والا تاجر(marginal businessman) اپنی روزی برقرار رکھنے کے لیے مسلمان ہونے پر مجبور ہوسکتا تھا، تو میں کہوں گا کہ آپ کا یہ قیاس صحیح نہیں ہے ۔کیوں کہ مسلمان ہوتے ہی اس پر زکاۃ عائد ہوجاتی جس کا بار جزیے اور محصول تجارت کے مجموعے سے زیاد ہ تھا۔ زکاۃ اس کے تمام تجارتی سرماے اور گھر کے زیورات اور جمع شدہ رقم پر ڈھائی فی صدی سالانہ کے حساب سے لگتی۔بخلاف اس کے بڑے سے بڑے مال دار غیر مسلم کو بھی ۴۸درہم (تقریباً ۳ڈالر) سالانہ سے زیادہ جزیہ نہ دینا پڑتا تھا اور محصول تجارت میں اس کو مسلمان کی بہ نسبت حد سے حد صرف ۵۰ فی صدی زیادہ دینا ہو تاتھا۔ (ترجمان القرآن،اکتوبر ۱۹۵۵ء)

Leave a Comment