مسلم حکومتوں کے معاملے میں جماعت اسلامی کا مسلک

انگلستان سے ایک صاحب نے مجھے لکھا ہے: مختلف مسلمان حکومتوں ، خصوصاً سعودی حکومت کے ساتھ اسلامی کارکنوں کے تعاون سے بہت کچھ نقصان ہو رہا ہے۔ ہم نے اسلامک کونسل آف یورپ کی طرف سے منعقد کی جانے والی بین الاقوامی معاشی کانفرنس میں یہ مشاہدہ کیا ہے کہ اس چال کے ذریعے سے مسلم حکومتوں کے معاملے میں اسلام کے موقف کو طرح طرح کی غلط فہمیوں میں اُلجھا دیا گیا ہے۔ اسلامک کونسل آف یورپ نے اس کانفرنس میں اسلام کی بہت سی بنیادی تعلیمات کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔ بعض لوگ جو آپ کی تحریک سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں ان کی اس کانفرنس میں شرکت لوگوں میں یہ خیال پیدا کرنے کی موجب ہوئی ہے کہ انھیں آپ کی تائید حاصل ہے اور یہ چیز مسلمان حکومتوں ، خصوصاً سعودی حکومت کی پالیسیوں کو سندِ جواز بہم پہنچاتی ہے۔ ہم پورے زور کے ساتھ اصرار کرتے ہیں کہ آپ اپنی تحریک کے کارکنوں کو مسلم حکومتوں کی خدمت انجام دینے والی قومی اور بین الاقوامی ایجنسیوں اور پلیٹ فارموں سے الگ رکھنے کے لیے اپنا پورا اثر استعمال کریں ۔ اس خط کے ساتھ ایک محضر نامہ بھی ہے جس پر بہت سے اشخاص کے دستخط ہیں ۔
جواب
آپ کا خط ملا جس کی تائید میں بہت سے اشخاص کے دستخط بھی ہیں ۔ مسلم حکومتوں کے بارے میں میری اور جماعت اسلامی پاکستان کی پالیسی مختصراً یہ ہے: ۱- وہ مسلم حکومتیں ہیں ، اسلامی حکومتیں نہیں ہیں ۔ یعنی چونکہ وہ مسلمان ملکوں کی حکومتیں ہیں اور ان کے فرماں روا مسلمان ہیں ، اس لیے ہم انھیں مسلم حکومتیں کہتے ہیں ۔ لیکن چونکہ وہ اسلام کے اصولوں پر قائم نہیں ہیں اور اسلامی احکام کی یا تو کلی طور پر ، یا جزوی طور پر پابند نہیں ہیں ، اس لیے ہمارے نزدیک وہ اسلامی حکومتیں نہیں ہیں ۔ اس بات کو ہم نے اپنے لٹریچر میں اس قدر کثرت کے ساتھ اور اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ کوئی شخص جس نے یہ لٹریچر دیکھا ہو اس معاملے میں ہماری پوزیشن کے متعلق کسی غلط فہمی میں نہیں رہ سکتا۔ ۲- ہم اپنے ملک (پاکستان) میں براہِ راست، اور تمام مسلم ممالک میں اِحیاے اسلام کی تحریکات کے تعاون سے اور ساری دنیا میں بالعموم اپنے لٹریچر اور اسلامی دعوت کے کارکنوں کی وساطت سے اسلام کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ بات کسی قیمت پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اسلام کے ساتھ کسی دوسری آئیڈیالوجی کی آمیزش کی جائے۔ ۳- مگر ہم اسلامی دعوت اور اقامتِ دین کے لیے کام کرتے ہوئے اس امرِ واقعہ کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ ہم اپنے ملک میں ، یا کسی مسلمان ملک میں ، یا دنیا میں کسی جگہ بھی خلا میں کام نہیں کر رہے۔ ہر جگہ کوئی نہ کوئی حکومت اقتدار پر قابض ہے، کوئی نہ کوئی نظامِ زندگی (خواہ وہ خالص کافرانہ ہو یا اسلام اور غیر اسلام کا مخلوطہ ہو) عملاً قائم ہے، اور مسلمان ملکوں کے مسلم عوام و خواص بھی اسلام کے علم و عمل سے بڑی حد تک عاری ہیں ۔ ۴- اس امر واقعہ کو ایک حقیقی واقعہ سمجھ لینے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ دعوتِ اسلامی اور اقامتِ دین اسلام کا کام عملاً کس طرح کیا جائے؟ کیا ان مختلف قسم کی حکومتوں اور اسلام سے ناواقف کروڑوں مسلم عوام کی آبادیوں کو غیر موجود فرض کر لیا جائے؟ یا ان سب کے خلاف جنگ کی جائے؟ یا ان سے قطعی لاتعلق ہو کر ان حکومتوں اور ان کی مسلم آبادیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان پر اثر انداز ہونے کے تمام مواقع سے دست برداری اختیار کرلی جائے؟ ۵- مجھے نہیں معلوم کہ آپ اور آپ کے ہم خیال لوگ ان میں سے کس صورت کو پسند کرتے ہیں ۔ا لبتہ اپنے اور اپنی جماعت کے متعلق میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم ہر ملک کے حالات کو دیکھ کر اور اچھی طرح سمجھ کر اس میں دعوت و تحریک کے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں جو قرآن و سنت کی تعلیمات ہی سے ما ٔخوذ ہوتے ہیں مگر ان تعلیمات کو ہر جگہ کے حالات پر ان کی مناسبت سے منطبق کیا جاتا ہے۔ اپنے ملک میں ہم نے ایک طرف عوام اور خواص کے اندر اسلام کا علم بڑے پیمانے پر پھیلایا، دوسری طرف ملک کی آبادی میں سے جو لوگ اقامتِ دین کا کام کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دینے پر آمادہ ہوئے انھیں ہم نے منظم کیا اور تیسری طرف ہم مسلسل یہ کوشش کرتے رہے کہ حکومت کے نظام کو اسلامی نظام میں تبدیل کیا جائے۔ دوسرے مسلمان ملکوں میں ہم براہِ راست اس طرح کی کوئی جدوجہد نہیں کرسکتے تھے، اس لیے ہم نے اپنا لٹریچر اُن میں پھیلایا، ان کے اندر جو لوگ اسلامی تحریک کا کام کرنے کے لیے اٹھے یا جو پہلے سے کام کر رہے تھے، ان کے ساتھ اپنی حدِ وسع تک تعاون کیا، اور ان کی حکومتوں کے مقابلے میں حتی الامکان کوئی مخاصمانہ رویہ اختیار نہ کیا تاکہ ہمارے خیالات وہاں پھیلنے میں رکاوٹیں پیدا نہ ہوں ۔ ۶- آپ نے خاص طور پر سعودی حکومت کا ذکر کیا ہے جس کی حکومت کے ساتھ ہمارا رویہ دوسری حکومتوں سے مختلف ہے۔ اس کے وجوہ میں آپ کو بالکل بے لاگ طریقے سے بتائے دیتا ہوں ، خواہ آپ کو اور آپ کے ہم خیال لوگوں کو اس سے اتفاق ہو یا اختلاف۔ ہمارے نزدیک سعودی عرب کی حیثیت پوری دنیا سے مختلف اور اپنی اہمیت میں ہر خطۂ زمین سے بڑھ کر ہے، اس لیے کہ وہاں حرمین واقع ہیں ۔ ہم ساری دنیا کا غرقِ معاصی ہونا برداشت کرسکتے ہیں ، مگر مکہ اور مدینہ میں برائیوں کا پھیلنا برداشت نہیں کرسکتے۔ یہی بنیادی محرک ہے ہماری اس پالیسی کا کہ سعودی عرب میں جو حامیِ دین عناصر موجود ہیں ان کی ہر ممکن طریقے سے تائید کریں اور جو عناصر وہاں برائیوں کو درآمد کر رہے ہیں ان کے شر سے اس مملکت اور اس کے عوام و خواص کو بچانے کی کوشش کریں ۔ سعودی حکومت اور اس کے حکمرانوں کے ساتھ بھی ہم نے اسی بنا پر یہ روش اختیار کی ہے کہ ان کے ہر اچھے کام میں ان کے ساتھ تعاون کیا جائے، انھیں مزید اچھے کاموں کی ترغیب دی جائے اور ان کی دولت دنیا کے ہر گوشے میں اسلام کی خدمت اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے زیادہ سے زیادہ صرف کرائی جائے۔ آپ ایسی کوئی مثال نہیں پاسکتے کہ ہم نے ان کے کسی غلط کام کی تائید کی یا ان کی بیجا مدح و تعریف کی ہو یا ان کی خاطر بادشاہی نظام کے متعلق اپنے اصولی موقف میں ذرّہ برابر بھی کوئی ترمیم کی ہو۔ ۷-آپ نے خاص طور پر اسلامک کونسل آف یورپ کی منعقد کردہ بین الاقوامی معاشی کانفرنس کا ذکر کیا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ اس میں بہت سی بنیادی اسلامی تعلیمات سے انحراف کیا گیا ہے، یا ان میں تحریف کی ہے۔ لیکن میں اس سے بالکل ناواقف ہوں کہ اس میں کن تعلیمات سے انحراف کیا گیا ہے یا کن تعلیمات میں تحریف کی گئی ہے۔ اگر آپ مجھے اس کے بارے میں کچھ معلومات بہم پہنچائیں تو شکر گزار ہوں گا۔ ۸- جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت ایسی مجالس میں اس غرض کے لیے ہوتی ہے کہ اسلام کااصلی نقطۂ نظر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے اور اگر کوئی غلط نقطۂ نظر پیش کیا جارہا ہو تو اس کی اصلاح کے لیے کوشش کی جائے۔ میرے علم میں یہ بات پہلی مرتبہ آئی ہے کہ ایسی کسی کانفرنس میں ہمارے کسی آدمی کی شرکت کسی حکومت کی پالیسیوں کو جواز فراہم کرنے کی ہم معنی ہوتی ہے۔ (ترجمان القرآن، اگست ۱۹۷۷ء)

Leave a Comment