معقول آدمیوں کے جاہلانہ عقائد کی وجہ

گائے کی تعظیم وتقدیس جو ہندو بھائیوں میں رائج ہے،اس کی وجہ سے سیکڑوں دفعہ ہندو مسلم فسادات واقع ہوچکے ہیں ۔آخر یہ کیا مسحوریت ہے کہ ہندوئوں میں بڑے بڑے معقول عالم موجود ہیں لیکن کوئی اس مسئلے کی نوعیت پر غور نہیں کرتا،حتیٰ کہ گاندھی جی جیسے فہمیدہ اور جہاں دیدہ لیڈ ر بھی مذہبیت کی اُسی کشتی پر سوار ہیں جسے عوام نے ایسے ہی چند مسائل پر جوڑ ملا کر تعمیر کیا ہے۔
جواب
آپ کو اس بات پر تعجب ہے کہ ہندوئوں میں بڑے بڑے معقول آدمی موجود ہیں جو وسیع علم اور وسیع نظر رکھتے ہیں مگر پھر بھی ان عقائد اور خیالات میں مبتلا ہیں جو سرسری نظر میں بھی جاہلیت کے عقائد اور خیالات محسوس ہوتے ہیں ۔اس قسم کا تعجب آپ نے ] سوال نمبر۸۳۵ [ کے سلسلے میں بھی ظاہر کیا ہے۔لیکن آپ دیکھیں گے کہ یہ صورت حال محض کسی ایک قوم ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں کثرت سے پھیلی ہوئی ہے۔دنیامیں بہت سے غلط فکری اور اعتقادی نظام پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے پیرو وں میں آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جو اعلیٰ درجے کے تعلیم یافتہ اور نہایت ذکی وفہیم اور اپنے مسلک کی مخصوص گمراہیوں کے سوا دنیا کے تمام دوسرے معاملات میں غایت درجے معقول ہوں گے۔اس کے باوجود ان لوگوں کا ایسی ایسی گمراہیوں میں مبتلا ہونا جن میں سے بعض تو ان کے مخصوص مسلک کو ماننے والوں کے سوا دوسرے تمام لوگوں کو صریحاً غیر معقول محسوس ہوتی ہیں ،بظاہر ایک حیران کن معاملہ نظر آتا ہے۔ مگر اس کی حقیقت پر غور کیا جائے تو اِ س میں حیرت کی کوئی بات نہیں رہتی۔ اس صورت حال کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ انسانوں میں کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اپنی عقل اور علم کے استعمال کو زیادہ تر اپنے دنیوی کاروبار اور اپنی جسمانی زندگی کے معاملات ومسائل تک محدود رکھتے ہیں اور اس کی کچھ زیادہ پروا نہیں کرتے کہ جن فکری واخلاقی بنیادوں پر انھوں نے اپنی زندگی کو تعمیر کررکھا ہے یا جن بنیادوں پر تعمیر شدہ زندگی انھوں نے پہلے سے پائی ہے،ان کے متعلق تحقیق کرلیں کہ وہ بجاے خود صحیح بھی ہیں یا نہیں اور ان سے بہتر بنیادیں کہیں ان کو مل سکتی ہیں یا نہیں ۔ اوراس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ انسانوں میں بہت ہی کم آدمی ایسے ہیں جو نسلی، قومی،شخصی اور نفسانی تعصبات سے آزادہوکر خالص علمی تحقیق اور خالص معقولیت پر اپنے طرز فکر وعمل کی بِنا رکھنے کے لیے آمادہ ہوں ،اگرچہ اس کے مدعی آپ کو بہت ملیں گے۔ (ترجمان القرآن ، جنوری ۱۹۴۶ء)

Leave a Comment