ملازمین کے حقوق

یہاں کے ایک ادارے نے مجھ سے دریافت کیا ہے کہ ملازمین کے معاوضہ جات اور دیگر قواعد ملازمت کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر کیا ہے۔جہاں تک قرآن وحدیث اور کتب فقہ پر میری نظر ہے،اس بارے میں کوئی ضابطہ میری سمجھ میں نہیں آسکا۔اس لیے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں کہ کتاب وسنت کی روشنی اور عہدِ خلافت ِ راشدہ اور بعد کے سلاطین صالحین کا تعامل اس بارے میں واضح فرمائیں ۔ چند حل طلب سوالات جو اس ضمن میں ہوسکتے ہیں ، وہ حسب ذیل ہیں ۔ سال بھر میں کتنی رخصتیں باتنخواہ لینے کا استحقاق ہر ملازم کے لیے ہے؟
جواب
آپ کا سوال کافی غور و خوض اور تفصیلی جواب چاہتا ہے مگر میں مجبوراً مختصر جواب پراکتفا کررہا ہوں ۔ شریعت میں ملازمین اور مزدوروں کے حقوق کسی مفصل ضابطے کی شکل میں تو مذکور نہیں ہیں ،مگر ایسے اُصول ہمیں یقیناً دیے گئے ہیں جن کی روشنی میں ہم تفصیلی ضوابط مرتب کرسکتے ہیں ۔ دورِ خلافت راشدہ میں ان اُصولوں کی بنا پر سرکار ی وغیر سرکاری ملازمین سے جو معاملہ ہوتا تھا،اس کی تفصیلات حدیث وتاریخ میں یک جا موجود نہیں ہیں ،بلکہ مختلف ابواب وفصول میں بکھری ہوئی ہیں ۔ان تفصیلات میں بھی آپ کے سوالات کا جواب شاید کم ہی ملے گا۔میں اس وقت عرف عام اور اسلام کے معروف تصور انصاف پر اعتماد کرتے ہوئے آپ کے سوالات کا مجمل جواب عرض کررہا ہوں ۔ رخصتوں کے بارے میں یہ معروف طریقہ مناسب معلوم ہوتاہے کہ سال میں ایک ماہ کی رخصت حسب معمول ملنی چاہیے۔

Leave a Comment