ملتِ اسلامیہ کا اصل راہ نما، امام حسین ؓ یا یزید

حضرت امام حسنؓ،حضرت امام حسینؓ اور ابن زبیرؓ کی سیاسی سرگرمیوں کے متعلق آپ کیا راے رکھتے ہیں ؟آپ کی نظر میں ۶۸۰ھ میں ملت اسلامیہ کا اصل راہ نما کون تھا؟حسینؓ یا یزید؟
جواب
جس دور کے متعلق یہ سوال کیا گیا ہے ،وہ حقیقت میں فتنے کا دور تھا۔ مسلمان اس وقت سخت انتشارِ ذہنی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس وقت عملاً مسلمانوں کا حقیقی لیڈر کون تھا۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ یزید کا سیاسی اثر جو کچھ بھی تھا،صرف اس بِنا پر تھا کہ اس کے پاس طاقت تھی اور ا س کے والد نے ایک مضبوط سلطنت قائم کرنے کے بعد اسے اپنا ولی عہد بنادیا تھا۔ یہ بات اگر نہ ہوتی اور یزید عام مسلمانوں کی صف میں شامل ہوتا، تو شاید وہ آخری شخص ہوتا جس پر لیڈر شپ کے لیے مسلمانوں کی نگاہِ انتخاب پڑ سکتی۔ اس کے برعکس حسین بن علیؓ اس وقت اُمت کے نمایاں آدمی تھے اور ایک آزادانہ انتخاب میں اغلب یہ ہے کہ سب سے زیادہ ووٹ ان کے حق ہی میں پڑتے۔ (ترجمان القرآن،اکتوبر۱۹۶۱ء)

Leave a Comment