ناجائز سروس کی مجبوری

بعض اوقات ایسے حالات ہوتے ہیں ، جیسے شوہر کی آمدنی کم ہے اور دوسرے وسائل بھی نہیں ہیں تو مجبوراً ایسی سروس بھی قبول کرنی پڑتی ہے، جس میں احکام شریعت کی پابندی نہیں ہو پاتی۔ اس میں صحیح رویہ کیا ہوگا؟
جواب

اس طرح کی مجبوریاں موجودہ تہذیب اور موجودہ نظامِ معیشت کی پیدا کردہ ہیں ۔ اسلامی ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ ایسے حالات فراہم کرے کہ ہر فرد کو اسلامی حدود کے اندر کسبِ معاش کے مواقع حاصل ہوں اور اسے ان حدود کو توڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ اس کے لیے آپ کو کوشش کرنی ہوگی کہ آپ کا یہ ملک صحیح معنی میں اسلامی ریاست بن جائے۔ پھر آپ دیکھیں گی کہ جو خواتین پڑھی لکھی ہیں ، جن کے پاس وقت ہے اور جو ملکی معیشت کو آگے بڑھا سکتی ہیں ان کے لیے متعین کام ہیں اور اسلامی حدود میں رہتے ہوئے ان کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ موجودہ حالات میں اگر کہیں آپ کو مجبوراً اسلامی حدود سے آگے بڑھنا پڑے تو اسے مجبوری ہی سمجھیں ۔ اسے اصولی طور پر شرعی جواز حاصل نہ ہوگا۔


Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.