نقد اور اُدھار خریداری کی صورت میں کمیشن میں فرق

بعض ایجنٹ مال سپلائی کرتے وقت دکان دار سے کہتے ہیں کہ اگر مال فروخت کرکے ہمیں رقم دو گے تو۲۰فی صدی کمیشن ہم آپ کو دیں گے،اور اگر نقد قیمت مال کی ابھی دو گے تو ۲۵ فی صدی کمیشن ملے گا۔کیا اس طرز پر کمیشن کا لین دین جائز ہے؟
جواب
نقد خریداری کی صورت میں زیادہ اور اُدھار کی صورت میں کم کمیشن دینامیرے علم میں ناجائز نہیں ہے۔ایجنٹ(یامالک) دکان داروں کو مال فراہم کرتے وقت جو کمیشن دیتا ہے، وہ دراصل اپنے منافع میں سے ایک حصہ اس کو ادا کرتا ہے۔اس حصے کو سودے کی نوعیت کے لحاظ سے کم وبیش ادا کرنے کا اسے حق ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی چیز سود سے مشابہ ہے۔البتہ اگر اُدھار کی مدت کے لحاظ سے کمیشن کی کمی کے درجے قائم کیے جائیں تو اس میں سودسے مشابہت پیدا ہوجاتی ہے۔ (ترجمان القرآن، جنوری،فروری ۱۹۵۱ء)

Leave a Comment