نماز میں رفع یدین کا مسئلہ

ازروے شریعت نماز میں رفع یدین کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟کیا ترکِ رفع سے آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے؟
جواب
اس مسئلے کی فقہی حیثیت کو لیجیے۔ رفع یدین کے متعلق نبی ﷺ سے پانچ مختلف طرزِ عمل منقول ہیں : ا۔ ابن عمرؓ کی روایت جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ تین مواقع پر رفع یدین کرتے تھے۔ افتتاح صلاۃ کے وقت،رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اُٹھ کر۔({ FR 1609 }) ب۔ مالک بن حویرث کی روایت جس میں ] تین[ موقعوں پر رفع یدین کا ذکر ملتا ہے۔افتتاح صلاۃ کے وقت، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اُٹھ کر۔({ FR 1610 }) ج۔ وائل بن حُجر کی روایت، جس میں چارمواقع پر اس کا ہونا مذکور ہے۔ افتتاحِ صلاۃ کے وقت۔ رکوع میں جاتے ہوئے۔رکوع سے اُٹھتے ہوئے۔سجدے کے موقع پر۔({ FR 1611 }) د۔ ابو حمید ساعدی کی روایت۔ اس میں بھی چار مواقع پر رفع یدین کا ذکر ہے، مگرچوتھاموقع سجدے کے بجاے تیسری رکعت میں قعدے سے اُٹھنے پر بیان کیا گیا ہے۔({ FR 1612 }) ر۔ عبداﷲ ابن مسعودؓ اور براء ابن عازبؓ کی روایت جس میں صرف ایک مرتبہ رفع یدین کرنے کا ذکر ہے، یعنی افتتاحِ صلاۃ کے موقع پر۔({ FR 1613 }) ان مختلف روایات میں سے(ا) کو امام شافعی ؒ،احمدؒ اور ابو ثورؒ نے،نیز اہل الحدیث اور اہل الظاہر کی اکثریت نے اختیار کیا اور ایک روایت امام مالکؒ سے بھی یہی ہے کہ وہ اس کو ترجیح دیتے تھے۔ (د)کو اہل الحدیث کے ایک گروہ نے مرجح ٹھیرایا۔ اور(ر)کو ابراہیمؒ نخعی، شعبیؒ، سفیان ثوریؒ،ابوحنیفہؒ اور تمام فقہاے کوفہ نے ترجیح دی۔ لیکن یہ واضح رہے کہ سوال صرف ترجیح کا ہے نہ کہ رد وقبول کا۔ائمۂ سلف میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ جن مختلف طریقوں کا ذکر مذکورہ بالا احادیث میں آیا ہے،ان میں سے کسی پر حضورﷺ نے عمل نہیں کیا تھا۔ بلکہ کہتے صرف یہ ہیں کہ جس خاص طریقے کو ہم نے مرجح قرار دیا ہے،وہ حضورﷺ کا عام معمول تھا اور دوسرے طریقوں پر آپؐ کبھی کبھی عمل کرلیتے تھے۔پس جب معاملے کی حقیقت یہ ہے تو ان طریقوں میں سے جس پر بھی کوئی عمل کررہا ہے ،حدیث ہی کی پیروی کررہا ہے اور اس پر نکیر کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اتباع پیغمبرؐ پر نکیر کی جاتی ہے، جس کی جرأت مقلدین کو بھی زیبا نہیں ، کجا کہ اہل حدیث اس کا ارتکاب کریں ۔ پھر اگر کوئی شخص ان طریقوں میں سے کسی ایک طریقے پر جامد ہونے کے بجاے وقتاًفوقتاً ان سب طریقوں پر عمل کرتا رہے جو حدیث میں مذکور ہیں تو یہ نبی ﷺ کی زیادہ صحیح ومکمل پیر وی ہوگی اور لفظ عمل بالحدیث کا اطلاق اس طرزِعمل پر زیادہ صحیح معنی میں ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ابتدا ہی میں ایک طریقے کو ترجیح دینے اور باقی سب طریقوں کو ترک کردینے کے بجاے ان سب طریقوں کو نماز میں اختیار کرنے کی گنجائش رکھی جاتی تو شاید بعدکے ادوار میں و ہ جمودوتعصب پیدا ہی نہ ہوتا جس کی بدولت نوبت یہ آگئی ہے کہ لوگ نماز کی جس صورت کے عادی ہیں ،اس سے ذرا سی بھی مختلف صورت جہاں انھوں نے دیکھی،اور بس وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس شخص کا دین بدل گیا ہے اور یہ ہماری اُمت سے نکل کر دوسری اُمت میں جاملاہے۔ یہ راے جو میں عرض کررہا ہوں ،یہ صرف میری انفرادی راے ہی نہیں ہے بلکہ پہلے بھی متعدد اہلِ تحقیق اسی خیال کا اظہار کرچکے ہیں ۔ اس وقت میرے پاس سفر({ FR 1453 }) میں کتابیں موجود نہیں ہیں اس لیے میں زیادہ وسیع پیمانے پر شواہد پیش نہیں کرسکتا، لیکن ’’حجۃ اللّٰہ البالغہ‘‘ خوش قسمتی سے مل گئی ہے،اس سے چند حوالے یہاں نقل کرتا ہوں ۔شاہ صاحب پہلے تو یہ اُصولی بات ارشاد فرماتے ہیں کہ: اَلْاَصُلُ اَنْ یَعْمَلَ بِکُلِّ حَدیثٍ اِلاَّ اَنْ یَّمْتَنِعَ الْعَمُلُ بِالْجَمِیْعِ لِلَّتَناقُضِ۔ ({ FR 1523 }) ’’اُصولی بات یہ ہے کہ آدمی ہر حدیث پرعمل کرے ،اِلاّ یہ کہ کسی مسئلے میں سب حدیثوں پر عمل کرنا تناقض کی وجہ سے غیر ممکن ہو۔‘‘ پھر آگے چل کر فَصْلُ، فِیْ عِدَّۃِ اُمُورِ مُشْکِلَۃٍ مِنْ التَّقْلِید وَاخْتَلافِ الْمَذَاھِبِ میں فرماتے ہیں : اِنَّ اکْثَرَ صُوَرِ الْاخْتِلَاِفِ بَیْنَ الفُقَہائِ لَا سِیِمًا فِیْ الْمَسَائِلِ الَّتِی ظَھَر فِیْھَا اَقْوَالُ الصَّحَابَۃَ فِی الْجَانِبَیْنِ، کَتَکْبِیْراتٍ التَّشْرَیْقِ وَتَکْبِیْراتٍ الْعِیْدَیِنِ وَنِکَاحِ الْمُحِرمِ وَتَشَھُدِ ابْنِ عَبَاسٍ وَ ابْنُ مَسْعُودِ، وَالْاِخُفائُ بِالْبَسْمَلَۃِ وَبٰامِیْن، وَالْاِشْفَاعٍ وَالْایًتَارِ فِیْ الْاِقَامًۃِ وَنَحْوِ ذٰلِکَ، اِنَمَّا ھُوَ فِیْ تَرْجِیْعٍ اَحَدِ الَقُوْلَیَن، وَکَانَ السَّلفُ لَا یَخْتَلِفُونَ فِی اَصْل الْمَشَرُوْعِیّۃِ وَانَّما کَانَ خِلَافُھُم فِیْ اَوْلَی الْأمْرَیِنِ، وَنَظِیرٌہٗ اِخَتَلاَفُ القُرّآعِ فِیْ وُجُوْہِ الْقِرأۃِ وَقَدْ عَللُّو اکثِرًا مِنْ ھٰذَا الْبَابِ بِانَّ الصَّحَابَۃُ مُخِتَلِفُوْنَ وَاِنَّھُمْ جَمِیْعًا عَلَی الْھُدی۔({ FR 1524 }) ’’واقعہ یہ ہے کہ فقہا کے درمیان اختلاف کی اکثر صورتیں ،بالخصوص ان مسائل میں جن میں صحابہ ؓ کے اقوال دونوں طرف پائے جاتے ہیں مثلاًتکبیرات تشریق، تکبیراتِ عیدین، نکاحِ محرم،تشہد ابن عباسؓ و ابن مسعودؓ، بسم اﷲ اور آمین کا اخفا،تکبیر اقامت میں کلمات کو ایک ایک مرتبہ یا دو دو مرتبہ پڑھنا وغیرہ، ان میں اختلاف دراصل اس امر میں ہے کہ دو اقوال میں سے کس کو کس پر ترجیح ہے ۔ورنہ ان مختلف طریقوں کے بجاے خود مشروع ہونے میں سلف کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا۔ان کا اختلاف تو صرف اس اعتبار سے تھا کہ دو مختلف اُمور میں سے اولیٰ کون سا ہے، اور یہ اختلاف ایسا ہی ہے جیسے قرائ ت کی مختلف صورتوں میں قاریوں کے درمیان اختلاف ہے۔اس معاملے میں بیش تر اُمور کے اختلاف کی وجہ سلف نے یہ بتائی ہے کہ صحابہ کرامؓ خود ان میں مختلف تھے اور ظاہر ہے کہ صحابہؓ سب کے سب ہدایت پر تھے۔‘‘ پھر باب اِذْکاَرِ الصَّلاۃِ وَھَیْئآِتِھا الْمَندوُبِ اِلَیْھَا میں فرماتے ہیں : وَھُوَ (اَیْ رَفْعُ الْیَدَیْنِ) مِنْ الْھَیْئَآتِ ، وَفَعَلَہٗ النَّبِیُّﷺ مَرَّۃً وَتَرَ کَہ مَرَّۃ، وَالْکُلُّ سُنَّۃٌ، وَأخَذ بِکُلِ وَّاحِدٍ جَمَاعَۃٌ مِنَ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِیْنَ وَمَنْ بَعْدَھُمْ۔ وَھٰذَا اَحَدُ الْمَوَاضِعِ الَّتِیْ اِخْتَلَفَ فِیْھَا الْفِریْقَانِ اَھَلُ الْمَدِیْنَۃِ وَالْکُوْفَۃِ وَلِکُلِ وَاحِدٍ اَصْلٌ اَصِیْلٌ وَالْحقُّ عِنْدِیْ فِیْ مِثْلِ ذٰلِکَ اَنَّ الْکُلَّ سُنَۃٌ۔ ({ FR 1525 }) ’’اور وہ( یعنی رفع الیدین) نماز کی ان ہئیتوں میں سے ہے جن کو نبیﷺ نے کبھی کیا ہے اور کبھی نہیں کیا۔ اور یہ دونوں طریقے سنت ہیں ،صحابہؓ اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے ایک ایک جماعت نے ان میں سے ایک ایک طریقے کو اختیار کیا ہے، اور یہ من جملہ ان معاملات کے ہیں جن میں اہلِ مدینہ اور اہلِ کوفہ کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے۔ لیکن ہر ایک کے لیے ایک ثابت شدہ اصل شریعت میں موجود ہے، اور ایسے مسائل میں میرے نزدیک حق یہ ہے کہ سب مختلف طریقے سنت ہیں ۔‘‘ شاہ صاحب کی ان تصریحات کے بعد اس امر کی ضرورت نہیں رہتی کہ میں آمین کے مسئلے کے متعلق الگ بحث کروں ۔تاہم اس معاملے میں صاحبِ ’’الجوہر النقی‘‘ کا یہ قول نقل کردینا کافی سمجھتا ہوں کہ: وَالصَّوابُ اَنَ الْخبَر بالْجَہْر بَہا وَالْمَخَافَۃَ صَحِیْحَان وَعَمِلَ بِکلُّ مِنْ فِعْلَیْہِ جَمَاعَۃٌ مِنْ الْعُلَمَاءِ۔({ FR 1614 })

Leave a Comment