نماز میں گدھے اورکتے کا سامنے سے گزرنا

ایک روایت کے مطابق عورت،گدھا اور کُتا سامنے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کی وضاحت کرکے میری پریشانی وبے اطمینانی رفع فرما دیں گے۔شکر گزار ہوں گا۔
جواب

یہ روایت [صحیح ]مسلم،کتاب الصلاۃ،باب سترۃ المصلّی میں ہے۔اس میں امام مسلم نے وہ پورا مواد جمع کیا ہے جو سترے کے مسئلے سے متعلق ان کو معتبرسندوں سے پہنچا تھا، اور اس کے سارے پہلو ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں ۔اس کی کسی ایک روایت کو لے کر کوئی نتیجہ نکال بیٹھنا صحیح نہیں ہے،بلکہ ساری روایتوں پر جامع نگاہ ڈالنے ہی سے آدمی صحیح نتیجہ اخذ کرسکتا ہے۔ اصل بات جو ان احادیث سے معلوم ہوتی ہے، یہ ہے کہ نبی ﷺ نے نمازی کو اپنے آگے سُترہ ({ FR 1733 }) رکھنے کا حکم دیا تھا اور اس کی وجہ سمجھاتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ اگر آدمی سُترہ رکھے بغیر نماز کے لیے کسی کھلی جگہ کھڑا ہوجائے گا تو عورتیں ،کتے،گدھے سب اُس کے سامنے سے گزریں گے۔اس بات کو سن کر بعض لوگ اس مسئلے کو یوں بیان کرنے لگے کہ عورت،کتے اور گدھے کے گزرنے سے نماز قطع ہوجاتی ہے۔ یہ باتیں جب حضرت عائشہ ؓکو پہنچیں تو انھوں نے فرمایا: إِنَّ الْمَرْأَۃَ لَدَابَّۃُ سُوء({ FR 1843 }) ’’ تو عورت بڑی بُری جانور ہوئی۔‘‘عَدَلْتُمُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحُمُرِ({ FR 1844 })’’تم لوگوں نے تو ہم کو گدھوں اور کتوں کے برابر کردیا۔‘‘ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ({ FR 1845 }) ’’نبی ﷺ تو رات کو نماز پڑھتے تھے اور میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح پڑی ہوتی تھی۔‘‘
(ترجمان القرآن ، اکتوبر ونومبر۱۹۵۲ء)