پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت

اسلامی حکومت میں نعشوں کی چیر پھاڑ (post mortom) کی کیا صورت اختیار کی جائے گی؟اسلام تو لاشوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا۔پوسٹ مارٹم دو قسم کے ہوتے ہیں :ایک (medico-legal) زیادہ تر تفتیش کے لیے، دوسرے علم الامراض کی(pathological) ضروریات کے لیے۔ ممکن ہے کہ اوّل الذکر کی کچھ زیادہ اہمیت اسلامی حکومت میں نہ ہو،لیکن مؤخر الذکر کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ اس طریقے سے امراض کی تشخیص اور طبی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔
جواب
پوسٹ مارٹم کے مسئلے پر میں اب تک کوئی قطعی راے قائم نہیں کرسکا ہوں ۔یہ بھی مانتا ہوں کہ بعض ضرورتیں ایسی ہیں جن کے لیے یہ ناگزیر ہے،مگراس کے باوجود طبیعت میں سخت کراہت پاتا ہوں ، اور احکام شرعیہ میں بھی انتہائی ناگزیر صورت کے بغیر اس کے لیے کوئی گنجائش مجھے نظر نہیں آتی۔ بہرحال یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے ایک اسلامی حکومت میں اہلِ علم باہمی مشورے سے طے نہ کرسکتے ہوں ۔ (ترجمان القرآن ، اپریل،مئی۱۹۵۲ء)

Leave a Comment