کارخانوں پر وجوبِ زکاۃکی حدود

کارخانوں اور دوسرے تجارتی اداروں پر زکاۃ کے واجب ہونے کی حدود بیان کیجیے۔
جواب
کارخانوں کی مشینوں اور آلات پر زکاۃ عائد نہیں ہوتی۔صرف اُس مال کی قیمت پر جو آخر سال میں ان کے پاس خام یا مصنوع شکل میں ،اور اُس نقد روپے پر جو ان کے خزانے میں موجود ہو،عائد ہوگی۔اسی طرح تاجروں کے فرنیچر،اسٹیشنری، دکان یا مکان اور اس نوعیت کی دوسری اشیا پر زکاۃ عائد نہ ہوگی۔صرف اُس مال کی قیمت پر جو ان کی دکان میں ،اور اُس نقد روپے پر جوان کے خزانے میں ختم سال پر موجود ہو،عائد ہوگی۔({ FR 1779 }) اس معاملے میں اُصول یہ ہے کہ ایک شخص اپنے کاروبار میں جن عوامل پیدائش سے کام لے رہا ہو وہ زکاۃسے مستثنیٰ ہیں ۔حدیث میں آتا ہے کہ لَیْسَ فِی الْاِبِلِ الْعَوَامِلِ صَدَقَۃٌ۔ ({ FR 2040 }) یعنی کوئی شخص جن اونٹوں سے آب پاشی کا کام لیتا ہو،ان پر زکاۃ نہیں ہے۔کیوں کہ ان کی زکاۃ اُس زرعی پیدا وار سے وصول کرلی جاتی ہے جو ان کے عمل سے حاصل کی گئی ہو۔اسی پر قیاس کرکے فقہا نے بالاتفاق دوسرے تمام آلاتِ پیدائش کو زکاۃ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ (ترجمان القرآن،نومبر۱۹۵۰ء)

Leave a Comment