کتاب کے ساتھ میزان اُتارنے کا مطلب

قرآن کریم میں کتاب کے ساتھ میزان اُتارنے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے اس کا کیامطلب ہے؟ الہامی قانون کے ساتھ وہ کون سی ترازو اُتاری گئی ہے جس پر ہم اپنی سوسائٹی کے جواہر اور سنگ ریزوں کے وزن اور قیمت کا انداز ہ کرسکیں ۔مفسرین کا یہ کہنا کہ انسانیت کے اخلاقی اعتدال کا نام میزان ہے،درست نہیں ہوسکتا۔ اوّل تو شخصی ضمیر کے اخلاقی احساسات سچائیوں کا صحیح وزن وقیمت متعین نہیں کرسکتے۔دوسرے یہ کہ میزان کے ساتھ کتاب اُتاری گئی ہے اور انسانی ضمیر کی میزان پیغمبروں اور کتابوں کے ساتھ نہیں اُتاری جاسکتی،وہ پہلے بھی تھی اور بعد کو بھی رہے گی۔
جواب
میزان سے مراد وہ توازن ذہنی اور وہ جانچنے اور تولنے کی صلاحیت اور صحیح وغلط کا موازنہ کرنے کی قوت ہے جو صرف انبیا ؊ اور کتاب الٰہی اور طریقہ انبیا سے حکمت وہدایت اخذ کرنے والوں میں پیدا ہوتی ہے۔محض پیدائشی اعتدال فکر یا فلسفیانہ غوروخوض اور لادینی اخلاقی تعلیمات سے بظاہر جو توازن پیدا ہوتا ہے، وہ حقیقی توازن نہیں ہوتا، بلکہ اس میں بہت افراط وتفریط باقی رہ جاتی ہے۔ یہ چیز صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو آیاتِ الٰہی میں تدبر کرتے ہیں اور انبیا؊ کی زندگیوں کا غائر مطالعہ کرکے ان سے علم کی روشنی اور حکیمانہ بصیرت حاصل کرتے ہیں ۔({ FR 2088 }) (ترجمان القرآن، ستمبر۱۹۵۴ء)

Leave a Comment