مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن جلد سوم میں سورۃ الانبیاء کی آیت۱۰۵ وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِاِنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصٰلِحُوْنَ کی جو تفسیر کی ہے اس کے بارے میں ان کا خیال یہ ہے کہ انھوں نے تفسیرکے صحیح اصولوں کو ملحوظ رکھ کر اس کی تفسیر کی ہے۔ان کا خیال ہے کہ اس آیت میں زمین کی وراثت سے مرادجنت کی وراثت ہے۔اس آیت کا تعلق دنیاکی وراثت سے نہیں بلکہ آخرت کی وراثت سے ہے۔مولانا کی یہ تفسیرصحیح نہیں ہے،اس لیے کہ قرآن میں جہاں کہیں بھی زمین کی وراثت وخلافت کاذکر ہے اس سے مراد اسی زمین کی حکومت اور فرماں روائی ہے۔انھوں نے اپنی تائیدمیں سورۂ زمر کے آخر کی آیت وَاَوْرَثَنَاالْاَرْضَ نَتَبَوَّءُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآءُ پیش کی ہے۔ لیکن اس آیت میں بھی وراثت ارض سے مراد اسی دنیا کی حکومت ہے۔جنتی اللہ کا شکرادا کریں گے کہ اس نے انھیں زمین کی وراثت وخلافت عطاکی اورپھر نیکی اورعمل صالح کے بدلے میں یہ جنت دی جس میں ہم جہاں چاہیں قیام کریں۔ الزمرکی اس آیت میں وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ کے بعد کچھ جملے محذوف ہیں۔ مولانا نے الانبیاء کی آیت ۱۰۵ کی جو تفسیرکی ہے وہ اس لحاظ سے بھی صحیح نہیں ہے کہ اس کے بعد اِنَّ فِیْ ھٰذَالَبَلَاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِیْنَ کی آیت ہے،جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اس میں ایک اہم مضمون ہے بندگی کرنے والوں کے لیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عابد بندوں کواس دنیا کی وراثت وخلافت کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ مولانا کی تفسیرسے اس آیت کا کوئی واضح مفہوم نہیں نکلتا۔انھوں نے یہ تفسیر اس لیے کی ہے کہ بعض لوگ آیت ۱۰۵کی غلط تفسیر کرکے صالح ہونے کا معیارہی دنیا کی حکومت قراردے رہے ہیں۔ لیکن کسی کی غلط تفسیر کے جواب میں ایسی تفسیر تونہ کرنا چاہیے جو قرآن کے استعمالات کے خلاف ہو۔
جواب
اگر آپ خود کتب تفاسیر کامطالعہ کرلیتے تو مولانا مودودی کی تفسیر کو غلط نہ قراردیتے۔ انھوں نے محض کسی کی غلط تفسیر کی تردید کے لیے اس آیت کی کوئی نئی تفسیر نہیں کی ہے۔ابن جریر، ابن کثیر، امام رازی، علامہ آلوسی اور دوسرے مفسرین کی کتابیں پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ الانبیاء، آیت ۱۰۵ کی تفسیر میں چاراقوال قدیم زمانے سے منقول ہوتے چلے آرہے ہیں
(۱) وراثت ارض سے مراد آخرت میں جنت کی وراثت ہے۔
(۲) اسی دنیا کی خلافت وحکومت مراد ہے۔
(۳) ارض مقدس کی حکومت مراد ہے۔
(۴) دنیا وآخرت دونوں جگہ کی وراثت مراد ہے۔
پہلا قول حضرت عبداللہ بن عباسؓ، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ اورابوالعالیہ جیسے اساطین علم تفسیر کا ہے۔ اسی کو اکثر مفسرین نے اختیارکیا ہے اوراسی کے بارے میں علامہ آلوسی نے یہ رائے دی ہے
والاولی ان تفسرالارض بارض الجنۃ کماذھب الیہ الاکثرون وھو اوفق بالمقام۔ (روح المعانی جلد۱۷)
’’بہتر اوراولیٰ یہ ہے کہ اس آیت میں ’الارض‘ کی تفسیرارض جنت سےکی جائے جیسا کہ اس کی طرف اکثر مفسرین گئے ہیں اور یہی قول اس مقام کے لیے مناسب ترین ہے۔‘‘
علامہ آلوسی نے اختصارکے ساتھ جو بات لکھی ہے، مولانا مودودی نے اس کومدلل طورپرتفصیل کے ساتھ لکھاہے۔سورۃ الزمر کی آیت کو پہلے قول کی تائید میں صرف مولانا مودودی نے پیش نہیں کیا ہے بلکہ قدیم زمانے سے اس کو پہلے قول کی تائید میں پیش کیا جارہاہے اور جہاں تک مجھے علم ہے سورۃ الزمر کی آیت میں کسی بھی معتمدعلیہ اور صاحب تصنیف مفسر نے الارض سے دنیا کی زمین مراد نہیں لی ہے بلکہ ابن جریرسے لے کر آج تک سبھی مفسراس سے جنت کی زمین مراد لیتے آرہے ہیں اوراس آیت کے سیاق وسباق پرغورکرنے سے معلوم ہوتاہے کہ وہاں دنیا کی زمین مراد لینے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ کسی آیت میں اپنے مدعا کو ثابت کرنےکے لیے بغیرکسی دلیل اورقرینے کے جملے محذوف ماننا صحیح طرزِ عمل نہیں ہے۔
قرآن میں متعدد مقامات پرجنت کے لیے بھی وراثت کالفظ استعمال ہواہے۔ سورۂ انبیاء کی آیت ۱۰۵میں صرف وراثت کا لفظ استعمال ہواہے۔ اس کے ساتھ خلافت کالفظ آپ نے اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے۔ سورۃ المومنون میں ہے
(۱) اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْوٰرِثُوْنَ۱۰ۙ الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ۰ۭ (المومنون۱۰،۱۱)
’’ایسے ہی لوگ وارث ہیں جو فردوس کی میراث پائیں گے۔‘‘
(۲) تِلْكَ الْجَــــنَّۃُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا۶۳ (مریم۶۳)
’’یہ وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں اسے وارث بنائیں گے جو پرہیزگارہوگا۔‘‘
(۳) وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۴۳ (الاعراف۴۳)
’’اوران سے پکارکر کہاجائے گا کہ یہ جنت تمہیں دی گئی ہے تمہارے اعمال (حسنہ) کے بدلے۔‘‘
(۴) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں ہے
وَاجْعَلْنِيْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِيْمِ۸۵ۙ (الشعراء۸۵)
’’ اور مجھے جنت النعیم کے وارثوں میں داخل کر۔‘‘
ان آیتوں سے معلوم ہواکہ جس طرح وراثت کا لفظ ارض الدنیا کے لیے استعما ل ہواہے اسی طرح جنت کے لیے بھی استعمال ہواہے۔ اس لیے اس کو استعمالات قرآن کے خلاف کہنا صحیح نہیں ہے۔
آپ نے آیت ۱۰۶ کے بارےمیں جو بات لکھی ہے اس پر بھی غورنہیں کیا ہے۔پہلی چیز یہ کہ اِنَّ فِی ھٰذَا میں عام طورسے مفسرین نےہذاکامشارالیہ قرآن کو قراردیاہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ آیت ۱۰۵ پر ایک بات مکمل ہوگئی اور آیت ۱۰۶ سے ایک دوسری بات شروع ہوئی ہے۔اوراگر اس کا اشارہ اس بشارت ہی کی طرف ہو جو آیت ۱۰۶ سے ایک دوسری بات شروع ہوئی ہے۔ اور اگر اس کا اشارہ اس بشارت ہی کی طرف ہو جو آیت ۱۰۵ میں ہے جب بھی مولانا مودودی کی اختیارکردہ تفسیر کامفہوم بالکل واضح ہے۔اس میں بتایاگیا ہے کہ جنت کی وراثت اللہ کے عابد، صالح اور نیک کردار بندوں کے لیے مخصوص ہے۔ اس لیے انھیں اسی کو اپنا مطمح نظر بنانا چاہیے۔ دنیا کی وراثت وحکومت تو اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت غیر صالح اور نافرمان لوگوں کو بھی عطاکردیتا ہے۔ یہ فانی اور عارضی چیز اس لائق نہیں ہے کہ عابدوں کی زندگی کا اصل مقصود بنے۔ اس آیت میں اللہ کی بندگی کرنے والوں کے لیے تسلی بھی ہے اور تنبیہ بھی۔
اس وضاحت کے بعد عرض یہ ہے کہ آپ نے بعد والی آیت کو توپڑھا لیکن ۱۰۵ سے پہلے کی آیت نظر سے اوجھل رہی۔ اس میں قیامت کا اور اعادۂ حیات یعنی زندگی بعد موت کاذکر ہے اور پھر اعادۂ حیات کے آیت۱۰۵ میں وراثت ارض کی بشارت ہے۔ ظاہر ہے کہ زندگی بعد موت کے بعد جس وراثت کی خوش خبری دی گئی ہے وہ اس دنیا کی وراثت نہیں ہوسکتی بلکہ عالم آخرت کی وراثت ہوسکتی ہے۔ مولانا مودودی نے جو قول اختیارکیاہے اس کے لحاظ سے آیت ۱۰۵کامفہوم سیاق اورسباق دونوں ہی سے مربوط ہوجاتاہے اوراسی لیے علامہ آلوسی نے اس کو اوفق بالمقام قراردیاہے۔