مولانا مودودی نے سورۂ رحمٰن کی آیت۳۳ یَامَعْشَرَالْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا تا اِلَّا بِسُلْطٰنٍ کا یہ ترجمہ کیاہے ’’اے گروہ جن وانس! اگر تم زمین اورآسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہوتو بھاگو۔ نہیں بھاگ سکتے، اس کے لیے بڑا زورچاہیے۔‘‘
اس ترجمہ پراعتراض کرتے ہوئے ایک صاحب فرمارہے ہیں کہتَنْفُذُوْا میں بھاگنے کے بجائے نفوذ آنا چاہیے، چناں چہ یہاں اللہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی زمین اور آسمانوں کےپار جاسکتا ہے بشرطیکہ زور پیدا کرے۔ امریکی اور روسی جس طرح مریخ اور چاند میں نفوذ کررہے ہیں اس کا یہی مفہوم صحیح ہوسکتا ہے۔لہٰذا مولانامودودی نےغلط ترجمہ کیاہے۔
جواب
لفظ ’نفوذ‘ کا صلہ جب حرف ’من ‘ کے ساتھ آتاہے تو اس کے معنی کسی چیز میں داخل ہوکر اس سے باہر نکل جانے کے ہوتے ہیں جیسے یہ جملہ نفذ السھم من الرمیۃ (تیرشکارکو چھید کرباہر نکل گیا) آیت ۳۳ میں ’’تَنْفُذُوْا‘‘ حرف من کے صلہ کے ساتھ آیا ہے۔ اس لیے اس کے معنی زمین اور آسمانوں کے کناروں سے نکل جانے کے ہوں گے۔ معترض نے نہ تو عربی لغت میں لفظ نفوذ کے معنی دیکھے ہیں اور نہ آیت ۳۳ سے پہلے اور بعد کی آیتوں کو سامنے رکھا ہے۔ مولانا مودودی نے ترجمہ غلط نہیں کیا ہے۔ میں محض تائید کے لیے دو اور مستند ترجمے نقل کرتاہوں۔ ایک ترجمہ شاہ عبدالقادراور شیخ الہند کا ہے
’’اے گروہ جنوں اورانسانوں کے! اگر تم سے ہوسکے کہ نکل بھاگو آسمانوں اور زمین کے کناروں سے تونکل بھاگو۔ نہیں نکل سکنے کے بدون سند کے۔‘‘
دوسرا ترجمہ مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ہے
’’اے گروہ جن اورانسان کے، ا گرتم کویہ قدرت ہے کہ آسمان، زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جائو تو(ہم بھی دیکھیں ) نکلو، مگر بدون زور کے نہیں نکل سکتے۔‘‘
آیت ۳۳ اور اس کے بعد کی جو آیتیں ہیں ان سے واضح ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ جن وانس کے گروہ کو مخاطب کرکے یہ فرمارہاہے کہ جب ہم تمہارا حساب لیں گے تو تم میری گرفت سے بچ کرکہیں نہیں جاسکتے۔ میری کائنات سے نکل بھاگنا تمہارے لیے ممکن نہیں ہے۔ چاند پراترجانےیا مریخ پراترجانے سے آیت ۳۳ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ غالباً معترض عربی زبان سے واقف نہیں ہیں۔ واقفیت کے بغیر کسی آیت کے ترجمہ کو غلط کہنا اہل علم کی شان سے بعیدہے۔ (فروری ۱۹۷۷ءج۵۸ش۲)