ادائے امانت کی اہمیت

عرض ہے کہ ماہنامہ زندگی مئی ۱۹۷۳ء اتفاقاً مطالعہ کے لیے دستیاب ہوا۔ رسائل ومسائل کے صفحات میں ’نسیان کی وجہ سے امانت ضائع ہوجانے کامسئلہ، کے عنوان سے جو جواب آپ نے فقہائے عظام کی روشنی میں دیا ہے اور اس کے حوالے بھی درج ہیں۔ مجھے آپ کے اس جواب پرایک علمی اشکال ہے جسے میں آپ کی خدمت میں پیش کررہاہوں۔ غور فرماکر’زندگی‘ میں اس کا جواب عنایت فرمائیں تاکہ اگر مجھے غلط فہمی ہے تو اس کا ازالہ ہوجائے۔

اس میں شک نہیں کہ آپ نے ضیاع امانت بوجہ نسیان کے تاوان کے سلسلے میں جو دلائل فراہم فرمائے ہیں وہ بہت ہی ٹھوس اوروزن دار ہیں اور آپ کا یہ فرمانا بالکل بجا اور درست ہے کہ اگر بھول جانے کی وجہ سے حقوق اللہ اور حقوق العباد ساقط ہوجایا کریں، ان کی قضا اور تاوان واجب نہ ہو تو ہزاروں حقوق طاق نسیان کی زینت بن جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے تلاش وجستجو کے بعد ایسا جزئیہ لاکر پیش فرماہی دیا ہے جو بظاہر سائل کے سوال کے مطابق ہے-اور میں نے مذکورہ حوالہ جات کی طرف رجوع کیا تو وہ عبارت بھی مل گئی۔ لیکن اے محترم ! اس کے باوجود یہ اشکال ہے کہ علامہ ابوالحسن علی مرغینانی  ؒنے لکھا ہے کہ الودیعۃ أمانۃ فی یدالمودع، اذا ھلکت لم یضمنھا لقولہ علیہ السلام لیس علی المستعیر غیر المغل ضمان ولا علی المستودع غیرالمغل ضمان ولان بالناس حاجۃ الی الاستیداع فلو ضمناہ یمنع الناس عن قبول الودائع فیتعطل مصالحھم۔                                                      (ہدایہ اخیرین ص ۲۷۱)

صاحب ہدایہ نے اپنے طرز خصوصی کی بنیادپر دودلیلیں ایک نقلی اورایک عقلی پیش فرمائی ہے۔ دلیل نقلی کاماحصل یہ ہے کہ امانت دار اگر غیر خائن ہے اور تعدی کے بغیر وہ چیز تلف ہوجائے تو اس کا ضمان نہیں ہے۔ اور دلیل عقلی کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کو دوسروں کے پاس اپنی امانتیں رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔اگر ہر شکل وصورت میں تاوان ضروری ٹھہرایا جاتا رہے گا اور لوگوں کو زبردستی ذمہ دار بنایا جائے گا تو لوگوں کے مصالح معطل ہو جائیں گے۔ ضروریات زندگی اور تجارت ومعیشت کانظام تباہ ہوکر رہ جائے گا اور امانت قبول کرنے سے لوگ کترائیں گے اور اتحاد واتفاق اختلاف میں بدل جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرات فقہانے حدیث مذکور اور مصلحت خفیہ پرعمیق نگاہ فرماکر یہ قاعدہ کلیہ بنایا ہے کہ وھی أمانۃ فلاتضمن بالھلاک۔                                  (تنویرالابصار ص۵۵۱)

اب یہ سوال ہے کہ نسیان، تعدی میں داخل ہے یا نہیں ؟ قابل غوربات یہ ہے کہ جو انسان امانت دار، ہوشیار اور بیدار مغزہوگا اور یادداشت میں ضعف نہ ہوگا اس سے اگر نسیان کاصدور ہوجائے تو تعدی میں کیسے شمار کیاجائے گا؟ ہاں جس کی عادت ہی نسیان وفراموشی کی بن گئی ہے اوراکثر وبیشتر وہ اس کا شکار رہتا ہے تو وہ یقیناً تعدی میں داخل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے ایسے حالات اور ایسی مثالوں میں ضمان لازم قراردیا ہے۔ اس لیے کہ اس نے اپنی کم زوری سے صرف نظر کرکے حفاظت امانت کا فریضہ انجام دیاہی نہیں۔ لہٰذا جو جواب آپ نے مرحمت فرمایا ہے اس کا تعلق اس نسیان سے معلوم ہوتا ہے، انسان جس کا عادی ہوچکا ہو۔ لیکن آپ نے اتفاقیہ فراموشی والی مثال کو عادت ثانیہ والی مثال پرچسپاں کردیا کیوں کہ یہ بات اگر نہ ہوتی تو وہ سائل یہ نہ کہتا کہ جب مجھے یاد آیا تو واپس لوٹ کرڈبہ میں تلاش کیامگر نہیں ملا۔ اور یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ نسیان صرف اختیاری ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ غیراختیاری بھی ہوتاہے۔

اور آپ نے جو حقوق العباد کے عدم اسقاط کو قیاس فرمایا ہے حقوق اللہ کے عدم اسقاط پر تو یہ قیاس مع الفارق ہے۔ کیا صلوٰۃ وصدقۂ فطر کی وہی حیثیت ہے جو ودیعت وامانت کی ہے؟ صلوٰۃ تو ہر مسلم عاقل بالغ پرفرض عین ہے، کسی حالت میں معاف ہی نہیں، بغیر ادا کیے چارہ نہیں، کیا ودیعت بھی فرض عین ہے؟ حدیث میں ہے من ترک الصلوٰۃ متعمداً فقد کفر۔ لیکن ودیعت کے بارے میں کہیں نہیں ملا من ترک الودیعۃ......صدقۂ فطر صاحب نصاب پر واجب ہے اور کیا ودیعت بھی؟ میں امید کرتاہوں کہ اس کا تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں گے تاکہ غور کرنے کا موقع ملے۔ آپ کا مشکورہوں گا۔

جواب

میں یہاں رامپورمیں موجود نہ تھا اس لیے جواب میں تاخیرہوئی۔ محترم! آپ تو خود عالم دین ہیں۔ اگر ودیعت کے پورے باب پرایک نظر ڈال لیتے توہدایہ اور تنویر الابصار کی ان عبارتوں سے جن کا حوالہ آپ نے اپنے خط میں دیا ہے کوئی علمی اشکال پیش ہی نہ آتا۔ میں نے جس وقت سائل کا جواب لکھا تھا اس وقت وہ عبارتیں میرے سامنے تھیں جو آپ نے مجھے لکھ بھیجی ہیں۔ ان عبارتوں اور فقہائے احناف کے قاعدۂ کلیہ کا تعلق اس بات سے ہے کہ ودیعت وامانت اصلاً غیرمضمون ہیں۔ امانت دار کی کسی ’خیانت‘ کے بغیر اگر کسی کی امانت تلف ہوجائے تواس پرتاوان لازم نہیں آئے گا۔اسی قاعدۂ کلیہ کے لیے صاحب ہدایہ نے حدیث بھی نقل کی ہے او رعقلی دلیل بھی دی ہے۔ ان عبارتوں کا تعلق اس بات سے نہیں ہے کہ کن چیزوں پر’خیانت‘ کااطلاق ہوگا او ر کن چیزوں پرنہیں ہوگا؟ یہ بات ان جزئیات سے معلوم ہوتی ہے جو فقہا نے اپنے قاعدۂ کلیہ کی روشنی میں مرتب کی ہیں۔ جس حدیث سے انھوں نے قاعدۂ کلیہ مستنبط کیا ہے اس میں اغلال (خیانت) کا لفظ استعمال کیاگیاہے، تعدی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔آں جناب کو غورکرنا چاہیے تھاکہ جب حدیث میں تعدی کالفظ نہیں ہے توپھر تعدی کی صورت میں تاوان لازم قرار دینے کی دلیل کیا ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ فقہا احناف نے قرآن وحدیث کے استعمال کی روشنی میں خیانت (اغلال) کو وسیع معنی میں لیا ہے۔ اس محدود معنی میں نہیں لیا ہے جو عام طورسے مشہور ہے۔

لوگ عام طورپر خیانت کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کی امانت واپس نہ کرے، اس میں خرد برد کرے، بڑھیا چیز کو گھٹیا چیز سے بدل دے یا اسی طرح کی کوئی حرکت کرے، لیکن عربی لغت اورقرآن وحدیث کے استعمال میں ’خیانت‘ کے معنی اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ اسی اعتبار سے فقہا کے نزدیک امانت میں کسی قسم کی تعدی اوراس کی حفاظت میں غفلت اور کوتاہی بھی ’خیانت‘ ہے۔ یہاں تک کہ اگر امانت دارنے کوئی ایسا کام کیا جس سے امانت رکھنے والا راضی نہ ہو تو اس کو بھی انھوں نے خیانت ہی میں داخل کیا ہے اورامانت دار پر تاوان لازم قراردیاہے۔ اور اسی بنیادپرانھوں نے باب ودیعت کی جزئیات مرتب کی ہیں۔ اگر خیانت کو وسیع معنی میں نہ لیا جائے بلکہ صرف اس کے مشہور معنی میں لیا جائے تو ودیعت کے مسائل میں فقہ حنفی کی متعدد جزئیات کا اس حدیث سے بھی تصادم لازم آئے گا اور ان کے قاعدۂ کلیہ سے بھی۔ میں ایک جزئیہ سے اس کو واضح کرتاہوں۔

امانت دار نے امانت کی حفاظت بذات خود یا اپنے اہل وعیال کے ذریعہ کرانے کے بجائے اس کو کسی اور کے حوالے کردیا جب کہ وہ ایسا کرنے پر مجبورنہ تھا، پھر وہ امانت اس دوسرے شخص کے پاس سے ضائع ہوگئی تو اس صورت میں اصل امانت دار اس کا ضامن ہوگا اوراس کو تاوان دینا پڑے گا۔ سوال یہ ہےکہ تاوان کیوں لازم ہوگا؟ امانت دار نے خیانت کے مشہور معنی کے لحاظ سے توکوئی خیانت کی نہیں ہے بلکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اس دوسرے شخص کے پاس وہ امانت اس لیے رکھ دی تھی کہ وہ مجھ سے زیادہ بہتر طورپر اس کی حفاظت کرسکتا تھا۔ تاوان کے لازم ہونے کے جودلائل صاحب ہدایہ نے دیے ہیں ان میں کی پہلی دلیل یہ ہےکہ امانت رکھنے والا اپنےمال پرکسی دوسرے کے قبضے سے راضی نہ تھا۔ کیوں کہ امانت کے معاملہ میں مختلف اشخاص کے قبضوں کے درمیان اختلاف ہوتاہے یعنی مثال کے طوپر ایک شخص جو زید پربھروسا کرتاہے ضروری نہیں کہ وہ بکریا عمر و پربھی بھروسا کرے۔ معلوم ہوا کہ چوں کہ امانت دار نے امانت رکھنے والے کی مرضی کے خلاف کام کیا اس لیے اس پرتاوان لازم ہوگا۔ کیوں کہ امانت رکھنے والے کی مرضی واجازت کے بغیر دوسرے شخص کو امانت حوالے کرکے امانت دار نے جو تعدی کی ہے وہ بھی ایک قسم کی خیانت ہی ہے۔ اسی طرح فقہائے احناف نے امانت کی حفاظت میں کسی طرح کی غفلت کو بھی خیانت ہی قرار دیاہے اور نسیان کی وجہ سے امانت کو تلف کردینے کی صورت میں بھی انھوں نے تاوان اسی لیے لازم قراردیا ہے کہ امانت دار نے حفاظت میں کوتاہی اور غفلت برتی۔

آپ نے نسیان کے بارے میں عادی اور غیرعادی ہونے کا جو فرق کیا ہے اس کا کوئی اشارہ بھی فقہ کی کتابوں میں موجود نہیں ہے۔ حالاں کہ اگر بات یہی ہوتی تو اس کی صراحت ضروری تھی کہ اگر امانت دار کو نسیان کی عادت ہوتو تاوان ہوگا اور عادت نہ ہو تو لازم نہ ہوگا۔ چوں کہ فقہا احناف امانت کو غیر مضمون مانتے ہیں اس لیے یہ صراحت بالکل ضروری تھی اور جب انھوں نے اس کا اشارہ تک نہیں کیا ہے تو فقہ حنفی کے لحاظ سے عادی اور غیرعادی کا فرق کس طرح قابل تسلیم ہوگا۔ امانت دار کی جو صفات آپ نے لکھی ہیں اس سے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو اپنی کوئی امانت حوالہ کرے تو پہلے یہ تحقیق کرلے کہ وہ نسیان کا مریض ہے یا نہیں ؟ اسی طرح کسی کی امانت اسی شخص کو قبول کرنی چاہیے جس کی یاد داشت قوی ہو۔ کتب فقہ ان دونوں باتوں سے خالی ہیں۔ فقہا نے نہ امانت حوالہ کرنے والوں پریہ پابندی عائد کی ہے اور نہ امانت قبول کرنے والوں پر۔

علاوہ ازیں آپ نے بھولنے والے کے اس قول کو کہ’’ جب مجھے یاد آیا تو واپس لوٹ کرڈبے میں تلاش کیا‘‘ اس بات کی دلیل بنایا ہے کہ اس کو بھولنے کی عادت نہ تھی۔ یہ پڑھ کرتعجب ہوا کیوں کہ یہ بات تو وہ شخص بھی کہے گا اور کہہ سکتا ہے جس کو بھولنے کی عادت ہو۔ کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ اگر اس شخص کونسیان کی عادت ہوتی تو یاد آنے کے بعد وہ واپس جاکر تھیلا نہ تلاش کرتا؟ پھر آپ نے جو لکھا ہے کہ نسیان اختیاری بھی ہوتا ہے اور غیر اختیاری بھی تو یہ بھی آپ نے ایک عجیب بات لکھی ہے۔

محترم ! نسیان ہمیشہ غیراختیاری ہوتا ہے۔ اپنے اختیاراور قصدسے کوئی شخص کوئی چیز نہیں بھولتا۔ نسیان کے ساتھ اختیارکالفظ استعمال کرناصحیح نہیں ہے۔ نسیان چوں کہ غیر اختیاری ہے اسی لیےآخرت کے مواخذہ سے انسان بچ جائے گا لیکن دنیا میں اس کی وجہ سے کسی کا حق تلف نہیں کیا جاسکتا۔

آپ نے حقوق العباد کو حقوق اللہ پر قیاس کرنےکو قیاس مع الفارق قراردیاہے اور متعدد سوالات کیے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ آپ کے خیال میں نسیان کی وجہ سے چھوٹی ہوئی نماز کی قضا اس لیے لازم ہوتی ہے کہ نماز کو اللہ نے ہر عاقل بالغ مسلمان پرفرض عین قرارد یا ہے، اس کو ادا کیے بغیر چارہ نہیں۔ بھول کر بھی کوئی نماز اگر چھوٹ جائے تو اس کی قضا واجب ہوگی لیکن کسی کی امانت قبول کرنے کو اللہ نے فرض عین قرار نہیں دیاہے۔ نسیان کی وجہ سے اگر امانت تلف ہوجائے تو نماز پر قیاس کرکے اس کے تاوان کو واجب قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ آپ یہ بھول گئے کہ گفتگو کس مسئلے پر ہورہی ہے۔ کسی کی امانت قبول کرنا تو فرض عین نہیں ہے لیکن اگر کوئی قبول کرلے تو اس کی پوری طرح حفاظت کرنا اور بے کم وکاست اس کے مالک کو واپس کرنا فرض ہوجاتاہے۔ گفتگو اسی مسئلہ میں ہورہی تھی کہ امانت قبول کرنے کے بعد امانت دار کی ذمہ داری کیا ہے؟ ادائے نماز کی فرضیت اور ادائے امانت کی فرضیت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جس خدا نے نماز فرض کی ہے اسی خدا نے امانتیں ادا کرنا بھی فرض قراردیاہے اور جس قرآن نے اللہ ورسول کے ساتھ خیانت ممنوع قراردی ہے اسی قرآن نے امانتوں میں خیانت کو ممنوع قراردیاہے۔ آپ کی یاد دہانی کے لیے چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں 

(۱)  فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَــتَہٗ وَلْيَتَّقِ اللہَ رَبَّہٗ۝۰ۭ

(البقرۃ۲۸۳)

’’پس اگر تم میں سے کسی کو کسی دوسرے پراعتماد ہوتو جس کے پاس امانت رکھی گئی ہے وہ اس کی امانت ادا کرے اور اللہ سے جو اس کا رب ہے ڈرے۔‘‘

(۲) اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۝۰ۙ                   (النساء۵۸)

’’اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو۔‘‘

(۳) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۝۰ۥۭ                     (المائدہ۱)

’’اے ایمان والو اپنے قول وقرارکو پورا کرو۔‘‘

(۴) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۲۷

(الانفال۲۷)

’’اے ایمان والو! اللہ اوراس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو او رتم جانتے ہو۔‘‘

آپ چوں کہ عالم دین ہیں اس لیے میں ان آیا ت کی تشریح نہیں کرتا، ان کے ترجموں ہی سےواضح ہوجاتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے ادائے امانت کو کیا اہمیت دی ہے۔ آپ اس سےواقف ہیں کہ احادیث میں جس طرح ترک نماز کو کفر کہاگیا ہے اسی طرح امانت میں خیانت کو نفاق اور بے ایمانی قرار دیاگیا ہے۔ منافقین کی جو علامتیں بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے

واذا اؤتمن خان              ’’اور جب اس کو امانت دار بنایا جائے تو خیانت کرے۔‘‘

بیہقی کی ایک حدیث میں ہے

عن انس قلما خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا قال لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ولا دین لمن لا عھدلہ۔                      (رواہ البیھقی فی شعب الایمان)

’’حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اکثر خطبوں میں فرمایا کرتے کہ جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پاس داری نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔ ‘‘

صدقۂ فطر پرجو سوال آپ نے کیا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے اصل مسئلہ پر غور کرنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی ہے ورنہ یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ جس طرح صدقۂ فطر کی ادائیگی ہر شخص پر واجب نہیں بلکہ صرف اس پرواجب ہے جو صاحب نصاب ہو،اسی طرح ادائے امانت ہرشخص پرواجب نہیں بلکہ صرف اس پر واجب ہے جس نے کسی کی امانت اپنے پاس رکھی ہو، جیسا کہ میں نے پہلے لکھا ہے۔ نماز، صدقۂ فطراور ودیعت وامانت کے سلسلے میں سوالات مرتب کرتےوقت آپ کے ذہن سے یہ بات نکل گئی کہ اصل مسئلہ ہے کیا؟ ورنہ آپ اس سے ناواقف نہیں ہوں گے کہ ادائے امانت کا وجوب، صدقۂ فطر کے وجوب سےبدر جہا بڑھا ہواہے۔

میں شکر گزارہوں کہ آپ کے استفسار کی وجہ سے مجھے ادائے امانت کی اہمیت پرمختصر اظہار خیال کا موقع مل گیا۔ فقہائے احناف کے سامنے ایک طرف یہ چیز رہی ہے کہ لوگوں کو اپنے اموال دوسرے لوگوں کے پاس بطورامانت رکھنے کی ضرورت پیش آیا کرتی ہے، اس لیے اگر ہرحال میں امانت دار کو اس کا ضامن قرار دیاجائے گا تو لوگ امانتیں قبول کرنے سے کترائیں گے اور اس طرح بہت سے لوگوں کو زحمتیں پیش آئیں گی۔ دوسری طرف ان کے سامنے یہ چیز بھی رہی ہے کہ امانت کی حفاظت میں غفلت اور کوتاہی کی صورت میں بھی امانت داروں پر تاوان لازم نہ قرار دیاجائے تو بہت سے لوگوں کے کثیر اموال تلف ہوجائیں گے۔ اسی طرح انھوں نے انسان کی نفسیاتی کم زوریوں کو بھی اپنے سامنے رکھا ہے۔ پہلی چیز کے لحاظ سے انھوں نے قاعدہ بنایا کہ امانت وودیعت اصلاً قابل ضمان نہیں ہیں۔ اگر امانت کی حفاظت میں کسی غفلت وکوتاہی کے بغیر وہ تلف ہوجائے توامانت دار پرکوئی تاوان لازم نہیں آئے گا۔ اور دوسری چیز کے لحاظ سے انھوں نے یہ طے کیا کہ امانت دار پر کوئی تاوان لازم نہیں آئے گا۔ او ردوسری چیز کے لحاظ سے انھوں نے یہ طے کیا کہ امانت دار کی کون سی خیانتیں، زیادتیاں، غفلتیں اور کوتاہیاں ایسی ہیں کہ ان کی وجہ سے امانت ضائع ہوجائے تو امانت دار پر تاوان واجب ہوگا۔ انھوں نےاس بات پر بھی صرف نظر نہیں کیا کہ شیطان اور نفس ہر انسان کے ساتھ ہے۔ آج ایک شخص امین ہے لیکن کل اس سے خیانت کا ارتکاب ہوسکتا ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے سوا کوئی انسان معصوم نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ اگر ایک شخص سوپچاس روپے میں خیانت نہیں کرتا تو ضروری نہیں کہ وہ ہزار دوہزار میں خیانت نہ کرے۔ان باتوں کا لحاظ کرکے انھوں نے فتویٰ دیا ہے کہ نسیان کی وجہ سے اگر امانت ضائع ہوجائے تو امانت دار اس کا ضامن ہوگا۔ اس کی اصل علت تویہی ہے کہ اس نے حفاظت میں غفلت برتی اور دوسری ضمنی علت یہ بھی ہے کہ یہ کس طرح معلوم ہوگاکہ فی الواقع وہ بھول گیاتھا یا اپنے نسیان کو دوسرےکا مال ہڑپ کرنے کے لیے بہانہ بنارہاہے؟ نسیان ایک ذہنی عمل ہے اس لیے اس پر کوئی شہادت بھی طلب نہیں کی جاسکتی۔

جہاں تک راقم الحروف نے غور کیا ہے فقہائے احناف کا یہ فتویٰ پوری طرح معقول اور مبنی برحکمت ہے اور اس کی وجہ سے نہ حدیث کے خلاف کوئی بات لازم آتی ہے اور نہ ان کے قائدۂ کلیہ پر کوئی زد پڑتی ہے۔                                           (ستمبر ۱۹۷۳ء ج۵۱ ش۳)