عورت کا حق مہر

ایک شخص اپنے اکاؤنٹ میں سے کچھ روپے نکالتا ہے اور اپنی بیوی سے یہ کہہ کر کہ اس میں سے کچھ روپے تمھارے مہر کے ہیں ، وہ سارے روپے اپنے بڑے بھائی کو تجارت کے لیے دے دیتا ہے۔ بھائی نے وہ روپے کبھی واپس نہیں کیے اور بیوی کو وہ روپے کبھی واپس نہیں ملے۔ کیا یہ کہہ دینے سے کہ اس میں تمھارے مہر کے روپے بھی تھے، مہر کی ادائیگی ہوگئی، جب کہ اس بات کو، ۱۷، ۱۸ سال ہوگئے ہیں ۔ یہ بھی بتائیں کہ اگر اب شوہر وہ روپے واپس کرتا ہے تو کیا وہ اسی وقت کے حساب سے واپس کرے گا جس وقت مہر طے کیا گیا تھا یا موجودہ زمانے کے حساب سے؟
جواب

مہر عورت کا قانونی اور شرعی حق ہے، جو اسے ہر حال میں ملنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ ٰ اتُوا النِّسَآئَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً ط (النساء: ۴)
’’اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے) ادا کرو۔‘‘
شوہر کو حق نہیں کہ بیوی کو مہر ادا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے، یا رقم ہونے کے باوجود اسے بیوی کی ملکیت میں نہ دے اور اس پر خود قبضہ جمائے رہے، یا اسے محض خبر دے کر، اس کی مرضی معلوم کیے بغیر، اس رقم کو اپنے استعمال میں لے آئے یا کسی کو قرض دے دے۔ ہاں ! اگر بیوی اپنی مرضی سے اپنی رقم مہر شوہر کو ہبہ کردے، یا اسے عاریتاً دے دے کہ اپنے استعمال میں لائے یا اس سے تجارت کرے یا کسی کو قرض دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سورۂ نساء کی مذکورہ بالا آیت کے آگے ہی اس کی بھی صراحت موجود ہے:
فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَـْیئٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ہَنِیْٓئًا مَّرِیْٓـئًاo
(النساء: ۴)
’’البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کاکوئی حصہ تمھیں معاف کردیں تو اسے تم مزے سے کھاسکتے ہو۔‘‘
اسلامی شریعت کا مزاج یہ ہے کہ عورت کا مہر نکاح کے وقت ہی ادا کردیا جائے، یا اگر اس وقت ممکن نہ ہو تو بعد میں جلد از جلد ادا کرنے کی کوشش کی جائے ۔ احادیث میں صراحت ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے نکاح کی خواہش کا اظہار کرتا تو آپؐ اس سے دریافت کرتے کہ تمھارے پاس مہر میں دینے کے لیے کچھ ہے؟ ہندوستانی مسلمانوں میں جو یہ چیز رواج پا گئی ہے کہ نکاح کے وقت مہر ادا نہیں کیا جاتا، یا علامتی طور پر اس کا تھوڑا سا حصہ ادا کرکے بقیہ کو مؤجل (تاخیر سے ادا کیا جانے والا) کرا لیا جاتاہے، پھر بعد میں اسے ادا کرنے کے معاملے میں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی، یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔ بہ طور مہر طے کی گئی رقم لازماً عورت کے حوالے کی جانی چاہیے یا اس کی مرضی کے مطابق اسے خرچ کیا جانا چاہیے۔
جہاں تک یہ سوال ہے کہ سترہ اٹھارہ سال قبل طے کی گئی رقم مہر اگر عورت کو اب مل رہی ہے تو کیا اتنی ہی ملے گی جتنی اس وقت طے ہوئی تھی، یا موجودہ مالیت کے حساب سے اس میں اضافہ کرکے ادا کیا جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک شوہر رقم مہر اپنی بیوی کو ادا نہ کرے اس وقت تک وہ اس کے ذمے قرض ہے اور قرض کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اتنی ہی رقم واپس کی جائے گی جتنی لی گئی تھی۔ اس لیے اٹھارہ سال قبل طے کردہ مہر میں موجودہ مالیت کے حساب سے اضافہ کرکے اس کی ادائی کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں ہے۔